ایران نے امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ جیٹ ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا؟
ایران نے 19 مارچ کو امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35 کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کردیا تھا۔ جس کے بعد ہر نیوز چینل پر یہی ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر دنیا کے اس جدید ترین جنگی جہاز، جسے روس کے اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار سسٹم بھی نہیں دیکھ پاتے، اسے ایران کے ایک معمولی سے میزائل نے کیسے ڈھونڈ نکالا؟
لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا تیار کردہ ایف-35 لائٹننگ ٹو ففتھ جنریشن ایوی ایشن سسٹم بے تاج بادشاہ ہے۔ امریکا نے اس جہاز کے ڈیزائن پر 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے تاکہ یہ دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے کر خاموشی سے اس کے علاقے میں داخل ہو سکے۔
اس طیارے کا بنیادی کام دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنا اور آسمانوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ دنیا کی سب سے جدید اور انتہائی خفیہ ’اسٹیلتھ ٹیکنالوجی‘ استعمال کرتا ہے۔
گزشتہ آٹھ سالوں سے یہ جہاز مسلسل جنگی مشن مکمل کرتا آرہا ہے، لیکن اسے کبھی ایک خراش تک نہیں آئی۔
تو پھر بڑا سوال یہ ہے ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟
یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم سمجھیں موجودہ دور میں طیارہ شکن میزائل کام کیسے کرتے ہیں۔
آج کل طیارہ شکن نظام میزائل کی رہنمائی کے لیے دو طریقے ریڈار اور حرارت کی شناخت (Heat-seeking) استعمال کرتے ہیں۔
اب ایف-35 ریڈار کو چکمہ دینے میں تو ماہر ہے ہی، کیونکہ اس کی مخصوص ساخت اور ریڈار جذب کرنے والے مواد کی وجہ سے یہ ریڈار اسکرین پر ایک ننھے سے پرندے جتنا نظر آتا ہے۔ روسی ساختہ ایس-300 اور ایس-400 جیسے مہنگے ترین سسٹم بھی اس پر لاک نہیں کر پاتے۔
لیکن ہر چیز کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اور ایف-35 کی کمزوری اس کا انجن ہے۔
ایف-35 میں ’پریٹ اینڈ وہٹنی ایف-135‘ انجن لگا ہے، جو دنیا کے طاقتور ترین انجنوں میں سے ایک ہے۔ اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ ساتھ یہ انجن شدید تپش اور حرارت بھی پیدا کرتا ہے، اور یہی شدید حرارت اس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔
ایران نے اس دن اپنے دفاع کے لیے ریڈار پر بھروسہ کرنے کے بجائے ’انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم‘ (آئی آر ایس ٹی) کا استعمال کیا۔
یہ سسٹم آسمان میں ریڈار سگنلز کے بجائے حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ اس سسٹم نے ایف-35 کے انجن سے نکلنے والی شدید گرم گیسوں کو فوراً پکڑ لیا۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آئی آر ایس ٹی اپنا کوئی سگنل خارج نہیں کرتا، اس لیے پائلٹ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ اسے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ایران کے اس میزائل کی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اس حملے میں ’358 میزائل‘ استعمال کیا، جسے ’ایس اے-67‘ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ کوئی عام میزائل نہیں بلکہ ایک عجیب و غریب امتزاج ہے؛ آدھا خودکش ڈرون اور آدھا میزائل۔
یہ بہت سست رفتاری سے اڑتا ہے اور ایک مخصوص علاقے میں ’آٹھ‘ (8) کے ہندسے کی شکل میں منڈلاتا رہتا ہے۔ اس میں اپنے آپٹیکل اور ہیٹ سینسرز لگے ہوتے ہیں۔
یہ بس فضا میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور جیسے ہی اسے کسی جیٹ کی حرارت محسوس ہوتی ہے، یہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے۔
اس میزائل کو زمین پر موجود انفراریڈ سینسرز کے نیٹ ورک سے بھی گائیڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ریڈار وارننگ نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف-35 اس میزائل کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ اس جہاز میں ایک انتہائی جدید ’ڈسٹری بیوٹڈ اپرچر سسٹم‘ (ڈی اے ایس) لگا ہے جس میں چھ انفراریڈ کیمرے پائلٹ کو جہاز کے گرد 360 ڈگری کا منظر دکھاتے ہیں۔
جیسے ہی 358 میزائل نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کے راکٹ موٹر سے حرارت نکلی، ڈی اے ایس نے اسے فوراً پکڑ لیا اور پائلٹ کے ہیڈسیٹ میں خطرے کا الارم بج اٹھا۔ اب پائلٹ کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند سیکنڈز تھے۔
میزائل کا نشانہ خطا کرنے کے لیے پائلٹ نے جہاز کو تیزی سے گھمایا اور ساتھ ہی ’فلیئرز‘ (شعلے) چھوڑنا شروع کر دیے۔
اس مینوور مقصد یہ تھا کہ میزائل کا سینسر دھوکہ کھا جائے اور وہ جہاز کے بجائے ان چمکتے ہوئے شعلوں کا پیچھا کرنے لگے۔
اور یہ طریقہ کام کر گیا! میزائل شعلوں کے دھوکے میں آگیا لیکن اس کے باوجود وہ جہاز کے انتہائی قریب سے گزرا۔
جیسے ہی میزائل کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے ہدف کو تباہ کرنے لائق حد کے اندر ہے، وہ فضا میں ہی پھٹ گیا۔
اس دھماکے کی لہروں اور میزائل کے تیز رفتار ٹکڑوں نے ایف-35 کے پرخچے اڑا دیے۔ اس کی اسٹیلتھ کوٹنگ اتر گئی اور فلائٹ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا۔
یہ کوئی براہِ راست ہٹ نہیں تھی جس سے جہاز آگ کا گولہ بن جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ اتنا زیادہ نقصان ہونے کے باوجود پائلٹ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کروانے میں کامیاب رہا۔
اس نقصان کے بعد امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
ایران کی اس حکتمتِ عملی نے ثابت کر دیا کہ امریکا کے جدید ترین طیارے کو گرانے کے لیے آپ کو اربوں ڈالر کے ریڈار کی ضرورت نہیں ہے۔