اگر دشمن زمینی کارروائی کرے تو کوئی بھی زندہ واپس نہ جائے: ایرانی فوجی سربراہ
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اگر دشمن زمینی کارروائی کی کوشش کرے تو اس کا ایک بھی اہلکار زندہ واپس نہیں جانا چاہیے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل امیر حاتمی نے اعلیٰ عسکری قیادت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آپریشنل ہیڈ کوارٹرز کو ہدایت دی کہ دشمن کی نقل و حرکت کو انتہائی درستگی اور محتاط انداز میں مانیٹر کیا جائے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔
انہوں نے فوجی کمانڈرز کو ہدایت کی کہ امریکا اور اسرائیل کی سرگرمیوں پر مسلسل اور قریبی نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ زمینی کارروائی کا بروقت اور بھرپور جواب دیا جا سکے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا اور اگر مخالفین نے زمینی حملے کی کوشش کی تو ان کے فوجیوں کو واپس جانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں امیر حاتمی کو دیگر فوجی کمانڈروں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک دکھایا گیا ہے، جہاں وہ ویڈیو لنک کے ذریعے مختلف عسکری حکام سے بھی رابطے میں ہیں، تاہم اس ویڈیو کے وقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کے خاتم الانبیا ﷺ سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی نظام کی تیاری کے مراکز امریکا اور اسرائیل کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہیں۔
اپنے بیان میں ترجمان نے کہا کہ ایران کی عسکری پیداوار ایسے مقامات پر ہوتی ہے جو دشمنوں کے لیے نامعلوم ہیں اور انہیں ان تنصیبات تک نہ رسائی حاصل ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کی عسکری صلاحیتوں اور ساز و سامان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں اور وہ ملک کی وسیع اسٹریٹجک طاقت سے آگاہ نہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے ایران کے اسٹریٹجک میزائل مراکز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، جدید فضائی دفاعی نظام، الیکٹرانک وارفیئر آلات یا دیگر حساس عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو یہ ایک غلط اندازہ ہوگا، کیونکہ جن مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ درحقیقت غیر اہم ہیں۔
ابراہیم ذوالفقاری نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تہران کے دشمن مکمل پسپائی اختیار نہیں کر لیتے اور انہیں ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔