آپریشن وعدہ صادق 4: ایران کے اسرائیل میں 50 اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکی و اسرائیلی اہداف پر حملوں اور سخت ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 92 ویں لہر کے دوران اسرائیل میں 50 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ امریکی ریڈار سسٹمز اور بحری تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق جمعے کو آپریشن کی 92ویں لہر کے دوران نیوی اور ایرو اسپیس فورس نے مشترکہ کارروائی میں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کویت کی بندرگاہ شویخ پر موجود امریکی لینڈنگ کرافٹ یوٹیلیٹی (ایل سی یو) جہازوں کو تباہ کیا گیا، جبکہ بحرین کی جبل الدخان ریڈار سائٹ پر نصب طویل فاصلے تک کام کرنے والے تھری ڈی ارلی وارننگ ریڈار کو بھی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں ’’آپریشن وعدہ صادق 4‘‘ کے تحت حملے کیے گئے۔
ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں توانائی تنصیبات، پاور پلانٹس اور آئی ٹی کمپنیوں پر بھی جوابی حملے کیے جا سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا کہ جنوبی مشرقی حیفا میں واقع اسرائیلی رمات ڈیوڈ ائیر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، جہاں اسرائیلی ایف-16 طیاروں کے اسکواڈرن موجود ہیں۔ اس کے علاوہ خرمشہر 4 ملٹی وارہیڈ میزائلوں کے ذریعے تل ابیب اور دیگر علاقوں میں 50 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام نے متحدہ عرب امارات میں قائم بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر منصوبے سمیت خطے میں اہم توانائی اور ٹیکنالوجی تنصیبات کو ممکنہ اہداف قرار دیا ہے، جب کہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماضی میں بھی خلیجی ممالک میں ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔
ادھر، ایران کی جانب سے کویت کی مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر دو ہفتوں میں تیسری بار ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ ریفائنری مشرقِ وسطیٰ کی بڑی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے اور کویت کی مقامی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہے، جبکہ کویت نے ایران کی جانب سے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بجلی گھر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران پر متحدہ عرب امارات کی فجیرہ آئل پورٹ پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، جس سے آپریشن معطل ہو گیا، جب کہ حبشان گیس فیسلٹی پر ڈرون کا ملبہ گرنے سے آگ لگنے کی اطلاع ہے۔
قبل ازیں، عرب میڈیا کے مطابق ایران نے دوسرا امریکی ایف35 لڑاکا طیارہ مارگرانےکا دعویٰ کیا، پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ وسطی ایران کی فضاؤں میں امریکی ایف 35 لڑاکا طیارہ مار گرایا، امریکی طیارہ ایف 35کے پائلٹ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق طیارے میں زوداردھماکے کے سبب ممکنہ طور پر پائلٹ کے ایجیکٹ کرنے کا امکان نہیں ہے تاہم امریکی سینٹ کام نے ایرانی دعوے پرفی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔