ایران کا امریکی پائلٹس کی تلاش کے لیے آنے والے ہیلی کاپٹرز اور موساد ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکا کے دو جدید جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ جبکہ ان جہازوں کے پائلٹ کو تلاش کے لیے آنے والے ہیلی کاپٹرز اور موساد ہیڈکوارٹر پر حملے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک طیارے کو وسطی ایران میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایف-35 یا ایف-16 ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ ایف-16 ہے اور انہوں نے تباہ شدہ جہاز کے ملبے کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے جبکہ لاپتہ پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ گرنے والے طیارے کے عملے کو بچانے کے لیے آنے والے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کے دو ہیلی کاپٹر فائرنگ کی زد میں ضرور آئے لیکن عملہ محفوظ رہا۔
ایران کی مسلح افواج نے ایک اور امریکی ڈرون کا شکار بھی کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون ’لوکاس‘ کو ملک کے جنوبی ساحلوں پر گرایا گیا۔ جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب خلیج فارس میں ایک اور امریکی لڑاکا طیارے ’اے 10 وارٹ ہاگ‘ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے امریکی نیوز چینل ’این بی سی‘سے گفتگو کرتے ہوئے طیارہ گرنے کی تصدیق کر دی ہے۔
ان فضائی معرکوں کے ساتھ ساتھ ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر بھی بڑا میزائل حملہ کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب میں اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے ہیڈکوارٹرز کو کلسٹر میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں عمارت تباہ ہو گئی اور وہاں سے آگ کے بڑے گولے فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔
ایران کی جانب سے حملوں کا یہ سلسلہ صرف تل ابیب تک محدود نہیں رہا بلکہ شہر کے وسط میں موجود 50 مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حیفہ، کفر کنہ اور کرایوت جیسے علاقوں میں بھی اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
ان کارروائیوں میں ایران نے اپنے جدید لانگ رینج گائیڈڈ میزائل، لیکویڈ فیول میزائل اور ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے ان حملوں کا بنیادی مقصد اسرائیل کے ریڈار سسٹم، بحری اثاثوں اور ہوائی اڈوں کو مفلوج کرنا تھا تاکہ دشمن کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو ختم کیا جا سکے۔