ایران نے امریکی جنگ بندی کی تجویز ٹھکرا دی، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار
ایران نے امریکا کی جانب سے اڑتالیس گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران اسلام آباد میں متوقع مذاکرات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
ایرانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ تجویز کسی تیسرے ملک کے ذریعے بدھ کو ایران کے سامنے پیش کی گئی تھی، لیکن تہران نے اسے قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے براہ راست مذاکرات سے بھی صاف انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی مطالبات قابل قبول نہیں ہیں۔
تہران کی جانب سے جنگ بندی کی اس امریکی تجویز سے متعلق اپنے فیصلے کی اطلاع ثالثوں کو بھی دی گئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کوششوں میں شامل ثالثین نے جمعہ کو تصدیق کی کہ ایرانی حکام نے باضابطہ طور پر امریکی حکام کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات سے انکار کیا۔
اخبار نے ثالث کاروں کے حوالے سے بتایا کہ ہے حالیہ سفارتی ڈیڈ لاک کے باوجود نئی تجاویز پر کام کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، تاہم ایران نے اس کی سختی سے تردید کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے تو وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا اس معاملے میں واضح مؤقف ہے کہ وہ اس جنگ کو صرف اسی صورت میں ختم کرے گا جب امریکا اس کے بنیادی مطالبات تسلیم کرے گا۔
ان شرائط میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ہرجانے کی ادائیگی، مشرق وسطیٰ میں موجود فوجی اڈوں سے امریکی انخلا اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانت شامل ہے۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر مشترکہ فضائی حملہ کیا ہے، جس میں تین افراد شہید ہو گئے ہیں۔
حملے میں صیہونی طیاروں نے براہِ راست بہشتی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا، جہاں ریسرچ سینٹر کی ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
ترجمان یونیورسٹی کے مطابق اس عمارت میں لیزر اور پلازما پر تحقیق کی جاتی تھی۔
اسرائیل کی جانب سے ایران کی درسگاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری سے اب تک چھ سو سے زائد تعلیمی ادارے اور اسکول حملوں کی زد میں آئے ہیں۔