سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا: ایران
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے 3 مارچ کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں۔
اپنے بیان میں آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی اسرائیل نے خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت انجام دی۔
آئی آر جی سی نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی افواج سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور خطے میں اسرائیلی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کارروائی یقینی طور پر صہیونی عناصر نے کی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلم ممالک کو صہیونی حکومت کی خطے میں فتنہ انگیزی سے ہوشیار رہنا چاہیے اور پڑوسی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی-صہیونی اتحاد کی تخریبی کوششوں کے خلاف چوکنا رہیں، جس کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ سعودی حکام کے بیان سے کہیں زیادہ تباہ کن تھا۔
سعودی وزارتِ دفاع نے واقعے کو محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان قرار دیا تھا، تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حقیقت میں لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سیکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔