خلابازوں کا چاند کے قریب سے پہلا دلکش نظارہ: ویڈیو پیغام جاری

ناسا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ویڈیو میں اس سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں۔
شائع 04 اپريل 2026 03:39pm

ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ویڈیو اپ ڈیٹ کے مطابق، مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں۔ اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔

ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی ہے:

”ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔“

ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔

یہ ویڈیو اس بات کی عکاس ہے کہ اورین کیپسول کے اندر زندگی کس طرح رواں دواں ہے اور خلاباز کس طرح ڈیپ اسپیس کے ماحول میں نہایت مستعد اپنا مشن سرانجام دے رہے ہیں۔

اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔

’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

Read Comments