ایران نے آبنائے ہرمز پر مغرب کی دوغلے پن کی دھجیاں اُڑا دیں

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے بیان پر شدید رد عمل
اپ ڈیٹ 04 اپريل 2026 04:49pm

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق یورپی رہنماؤں کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مغربی ممالک پر بین الاقوامی قانون کے ’’دوہرے معیار‘‘ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

لندن میں ایرانی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مغربی ممالک کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’بین الاقوامی قانون‘‘ کا حوالہ صرف اپنے مفادات کے مطابق دیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کی خودمختار ریاستوں کے خلاف فوجی کارروائیاں اور رہنماؤں کے قتل جیسے اقدامات پر مغرب کیوں خاموش ہے۔ ایرانی سفارتخانے نے مناب کے اسکول پر حملے کا بھی حوالہ دیا، جس میں 170 طلبہ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔

مزید کہا گیا کہ شہری انفراسٹرکچر، جیسے ادویات بنانے والی فیکٹریوں اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس پر حملوں پر بھی مغرب کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایرانی سفارتخانے نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون صرف اسی وقت اہم سمجھا جاتا ہے جب وہ مغربی بیانیے کے مطابق ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مغربی ممالک حملہ آوروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے متاثرہ فریق کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

یہ ردعمل کاجا کالاس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر 40 سے زائد ممالک کے اجلاس کے انعقاد کو سراہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے اور ایران کو وہاں سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

کالاس نے بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے بحری مشن کو وسعت دینے اور اقوام متحدہ کی جانب سے خوراک اور کھاد کی ترسیل کیلئے انسانی راہداریوں کو برقرار رکھنے کی حمایت بھی کی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکی، اسرائیلی کارروائیوں کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے حوالے سے بیانات میں شدت آئی ہے، تاہم ان حملوں کی کھل کر مذمت نہیں کی گئی۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کیے، جن میں فوجی و شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔

اس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے بھی جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔

Read Comments