مذاکرات کے لیے پاکستان جانے سے کبھی انکار نہیں کیا: عباس عراقچی

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
اپ ڈیٹ 04 اپريل 2026 07:05pm

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مؤقف کو غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی عراقچی کے بیان کو سراہتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کے ساتھ ایرانی عوام کی پاکستان سے محبت کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور لکھا کہ ہم نے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران ان اقدامات کا قدر دان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی میڈیا جنگ بندی سے متعلق خبروں کو مسخ کر رہا ہے اور حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا جا رہا۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کو جامع، حتمی اور دیرپا ہونا چاہیے تاکہ اس تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ٹوئیٹ کے بعد ناب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی وضاحت کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کیا۔

قبل ازیں، امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے امریکی حکام سے ملاقات سے انکار کیا اور امریکا کے مطالبات ناقابل قبول قرار دیے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے اسلام آباد آنے سے بھی انکار کر دیا اور مذاکرات کی پاکستانی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے خلاف بھارتی پروپیگنڈہ بھی سامنے آیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اور ٹوئیٹ میں مغربی ممالک کے رویے پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پلانٹ کے قریب جھڑپوں پر مغرب نے شدید ردعمل دیا تھا، تاہم ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر حملوں پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل اب تک بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کو چار مرتبہ نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں کے ممکنہ اثرات تہران کے بجائے خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں کو زیادہ متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ رپورٹس کے مطابق بوشہر نیوکلیئر پلانٹ کے قریب حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں، جس میں جانی نقصان بھی ہوا تاہم تاحال کسی بڑی تابکاری کے اخراج کی تصدیق نہیں ہوئی ۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملوں کے اصل مقاصد کیا ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا تسنیم کے مطابق بوشہرجوہری پاورپلانٹ پیری میٹرکے قریب پروجیکٹائل حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔ حملے میں بوشہر پاور پلانٹ کے مرکزی حصوں کو نقصان نہیں پہنچا نہ ہی پاور پلانٹ کی پروڈکشن متاثر نہیں ہوئی ہے۔

ایرانی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوب مغربی صوبے خوزستان میں ماہ شہراسپیشل پیٹروکیمیکل زون میں بھی متعدد دھماکے سنے گئے، جس میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ امریکی و اسرائیلی حملوں میں بندر امام پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، حملے میں بندر امام پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کے کچھ سیکشنز کو نقصان پہنچا۔

Read Comments