ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ بازیاب؛ ’بچایا گیا افسر کرنل ہے‘

ریسکیو آپریشن کے دوران شدید جھڑپ، امریکی طیارے کی تباہی کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 05 اپريل 2026 07:26pm

ایران کے اندر گرنے والے امریکی جنگی طیارے ایف-15 ای کے عملے کو بچانے کے لیے جاری آپریشن کے حوالے سے نئی اور سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہے۔

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا۔

رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران کم از کم نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہے، تاہم غیر سرکاری اطلاعات بتاتی ہیں کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

اگرچہ ان مسلح جھڑپوں کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن دہشت کے گردونواح میں ہونے والی ہلچل سے یہ واضح تھا کہ امریکی کمانڈوز پائلٹ کو بازیاب کرانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کیونکہ گزشتہ دو دنوں سے ایرانی حکام بھی اس پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے اور انہوں نے عام شہریوں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔

ایرانی حکام نے پائلٹ کا سراغ لگانے والے کسی بھی شہری کے لیے بڑے انعام کا اعلان کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے مقامی آبادی بھی اس تلاش میں سرگرم تھی۔

لیکن اسی دوران امریکی ٹیموں نے ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ مشن کے تحت پائلٹ تک پہنچنے کی کوشش کی۔

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ اگرچہ لاپتہ اہلکار کو ڈھونڈ نکالنا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن ریسکیو ٹیم کے لیے اصل چیلنج اسے بحفاظت ایران سے باہر نکالنا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار مرد ہے یا خاتون، کیونکہ امریکی فوجی اصطلاح میں ’ایئرمین‘ کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ”ہم نے اسے نکال لیا ہے!“۔

انہوں نے اس مشن کو امریکی تاریخ کے سب سے مشکل اور نڈر ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشنز میں سے ایک قرار دیا، جس میں امریکی فوج نے دشمن کے علاقے کے اندر جا کر اپنے افسر کو بچایا۔

صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار کوئی معمولی افسر نہیں بلکہ ایک انتہائی قابلِ احترام ’کرنل‘ ہے، جو اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس خطرناک مشن اور طیارہ گرنے کے دوران کرنل کو کچھ زخم آئے ہیں، لیکن وہ اب خطرے سے باہر ہے اور جلد ہی مکمل صحت یاب ہو جائئے گا۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس مشن میں درجنوں جدید ترین جنگی طیارے اور مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کے علاقے میں پھنسے ہوئے اہلکار کو ہر قیمت پر نکالا جا سکے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ گزشتہ دو دنوں میں دوسری بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک اور بہادر پائلٹ کو بھی بچایا گیا تھا جس کی تصدیق اس وقت اس لیے نہیں کی گئی تاکہ دوسرے جاری آپریشن کو کسی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

صدر ٹرمپ نے اس دہری کامیابی کو امریکی فوجی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دو الگ الگ پائلٹس کو دشمن کی سرزمین کے اندر سے باحفاظت نکالا گیا ہو۔

انہوں نے عہد کیا کہ امریکا اپنے کسی بھی سپاہی کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑے گا۔

صدر ٹرمپ نے اس کامیابی کو ایرانی فضائی حدود پر امریکی غلبے اور برتری کا ثبوت قرار دیا، لیکن اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا کہ آخر وہ ایف-15 طیارہ ایرانی فورسز نے گرایا کیسے تھا۔

اپنی گفتگو کے آخر میں صدر ٹرمپ نے تمام امریکیوں، چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، سے اپیل کی کہ وہ اس فخر کے لمحے میں متحد ہو جائیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنا کر گرایا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق یہ کارروائی صوبہ اصفہان کے جنوبی علاقے میں کی گئی، جہاں امریکی طیارہ لاپتہ افسر کی تلاش کے لیے پرواز کر رہا تھا۔

ایرانی میڈیا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں کھیتوں کے درمیان سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اس طیارے کو ’فراج رینجرز‘ نامی پولیس کمانڈو یونٹ نے تباہ کیا ہے اور یہ سی-130 کلاس کا طیارہ تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ طیارہ ”وطنِ عزیز کی مقدس سرزمین پر حملہ کرنے والے بدبخت جارحیت پسندوں کو ایندھن فراہم کر رہا تھا“۔

ایرانی حکام نے اس واقعے کو صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کا جواب قرار دیا ہے جن میں وہ ریسکیو آپریشن کی کامیابی کی باتیں کر رہے تھے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی نے اس کارروائی کو ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بڑی شکست پر پردہ ڈالنے کی مایوس کن کوشش“ کا انجام قرار دیا ہے۔

Read Comments