دولت مند خلیجی ممالک کی مغرب میں سرمایہ کاری، غیر ملکی اثاثوں کی قدر (حصہ اول)

.
شائع 06 اپريل 2026 01:20pm

زیرِ نظر تحریر کے مصنف پیشہ ور اور تربیت یافتہ اکاؤنٹنٹ ہیں، جو اثاثوں کی قدر کے تعین کے لیے ہمیشہ کاروبار کے تسلسل کے مسلمہ مفروضے کو بنیاد بناتے رہے ہیں۔ اس تیکنیکی مفروضے کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی کاروبار مستقبل قریب میں اپنی موجودہ حالت میں برقرار رہے گا۔ تاہم درج ذیل سطور میں حقائق اور حالات کی روشنی میں ایک مختلف نقطہ نظر اور متبادل مفروضے پر بحث کی گئی ہے۔

اس تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ دولت مند مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے مغرب میں جو اثاثے بنا رکھے ہیں وہ اتنے سود مند اور نقد آور نہیں ہیں جتنا کہ روایتی اکاؤنٹنگ فریم ورک کے تحت عمومی طور پر تصور کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرمز، مالیاتی تجزیہ کار اور میڈیا کبھی بھی تصویر کے اس رخ کو نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہ ان کے اپنے معاشی مفادات سے متصادم ہے۔ تاہم مالیات اور سیاست کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے بعد مصنف کو تقریباً یقین ہے کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتائج جو بھی ہوں مستقبل میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے وہ اٹل ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایران کی مکمل تباہی یا وہاں حکومت کی تبدیلی کا دور دراز امکان بھی حقیقت بن جائے، تب بھی واقعات کا رخ تبدیل نہیں ہوگا۔ درج ذیل چار دلائل اس نتیجے کے لیے اہم ہیں

(1) مشرق وسطیٰ کے تیل بردار ممالک بنیادی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت نے اپنے خودمختار دولت فنڈز کے ذریعے غیر ملکی اثاثوں میں تقریباً 3.7 ٹریلین سے 5 ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ فنڈز تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی، کھیلوں، بینکاری اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

خلیجی ممالک کے یہ فنڈز عالمی ریاستی فنڈز کے تقریباً ایک تہائی اثاثوں کا انتظام سنبھالتے ہیں اور اکثر مغربی کمپنیوں کے لیے نجات دہندہ کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کی سرمایہ کاری زیادہ تر مغربی کمپنیوں (مثلاً اوبر، بوئنگ، نینٹینڈو) اور بڑے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ اہم کھلاڑیوں میں سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیوآئی اے) اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے) شامل ہیں جو اپنے عالمی پورٹ فولیو کو تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔

(2) قطر لندن کے لگژری ہوٹلوں کی وسیع ملکیت رکھتا ہے، جو بنیادی طور پر قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیوآئی اے) اور کٹارا ہاسپیٹلٹی جیسے ریاستی اداروں کے ذریعے ہے، جن کے پاس 100 بلین پاؤنڈ سے زائد کے برطانوی اثاثے ہیں۔ ان میں دی رٹز (800 ملین پاؤنڈ)، ’سیوائے ، کوناٹ ، گرووینر ہاؤس اور چانسری روز ووڈ کے علاوہ ہیرودز جیسے مشہور اثاثے شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دی رٹز لندن 2020 میں تقریباً 800 ملین پاؤنڈ میں قطری سرمایہ کار کو فروخت کیا گیا، جبکہ میفیئر میں سابق امریکی سفارت خانے کی جگہ بننے والا چانسری روز ووڈ قطری دیار نے 2009 میں تقریباً 500 ملین پاؤنڈ میں حاصل کیا تھا۔

(3) 28 فروری 2026 کو تنازع شروع ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں دبئی اور ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں کو پہلے ہی مہینے میں مجموعی طور پر 120 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اگرچہ دولت کی سوئٹزرلینڈ منتقلی کی اطلاعات تھیں جہاں سوئس بینکوں میں یو اے ای کے افراد کی نقد رقم میں 40 فیصد اضافہ ہو اور کچھ سرمایہ کاروں نے اثاثے سنگاپور یا ہانگ کانگ منتقل کیے لیکن دبئی سے لندن منتقل ہونے والے سرمائے کے درست اعداد و شمار واضح نہیں ہیں۔ 28 فروری 2026 کے بعد کے اہم مالیاتی اثرات یہ ہیں 1۔ جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر دبئی فنانشل مارکیٹ انڈیکس میں تقریباً 16 فیصد کمی آئی۔ 2۔ صاحب ثروت افراد نے خلیج میں اپنی پوزیشنز کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا اور محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کیا، جس سے سوئس بینکوں میں یو اے ای سے منسلک فنڈز میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ 3۔ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فوری فرار کے بجائے خطرات کا ازسرنو جائزہ تھا۔ (4)۔ ایس اینڈ پی کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق تنازع طول پکڑنے کی صورت میں خلیجی بینکوں کو 307 بلین ڈالر کے ڈپازٹس نکل جانے کا خطرہ تھا۔ (5)۔ معاشی خلل کے جواب میں دبئی نے 30 مارچ 2026 کو کاروباروں اور شہریوں کی مدد کے لیے 270 ملین ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔

(6) بلیک راک نے 6 مارچ 2026 کو اپنے 26 بلین ڈالر کے فلیگ شپ ایچ پی ایس کارپوریٹ لینڈنگ فنڈ(ایچ ایل ای این ڈی) سے رقم نکالنے پر پابندی لگا دی۔ سرمایہ کاروں نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اپنے حصص کا 9.3 فیصد (تقریباً 1.2 بلین ڈالر) نکالنا چاہا، جو فنڈ کی 5 فیصد کی سہ ماہی حد سے تجاوز کر گیا۔ بلیک راک نے 5 فیصد کی حد برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 620 ملین ڈالر ادا کیے لیکن باقی درخواستیں روک دیں۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران طویل مدتی نجی قرضوں کو نقصان پر فروخت کرنے سے بچنے کے لیے کیا گیا۔

مصنف جس تصور کو پیش کرنا چاہتا ہے، اسے اوپر دیے گئے کیس (1) اور (2) کے حوالے سے بیان کرنا آسان ہوگا۔ قطر لندن میں دی رٹز کے نام سے 1 بلین ڈالر کا ہوٹل رکھتا ہے۔ (جاری ہے)


نوٹ: یہ تحریر 5 اپریل 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ ادارے کا مصنف کی ذاتی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Read Comments