لائیو

ایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ منگل کی رات بھی ہو سکتی ہے: صدر ٹرمپ

اگر ایران نہیں مانا تو کوئی پل یا پاور پلانٹ محفوظ نہیں رہے گا، امریکی صدر
اپ ڈیٹ 06 اپريل 2026 11:20pm

امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیان دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ایران کو ایک رات میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ روز تاریخ کا بڑا اور اہم ریسکیو مشن سرانجام دیا،  ہم نے ایران سے پائلٹ کو دن کی روشنی میں نکالا۔

صدرٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ہی رات میں ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ رات شاید کل بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے لیے امریکی تجاویز نہایت اہم ہیں اور ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جب کہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

انھوں نے ایران کے خلاف اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم یہ اقدامات کیوں کر رہے ہیں، تو میں واضح کر دوں کہ ہم ایران کو نیوکلیر ہتھیار بنانے نہیں دیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بعض افراد کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی منصوبہ نہیں، لیکن ہر ایک چیز منصوبے کے مطابق کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم پاور اسٹیشن پر حملے کریں گے تو اس سے ایرانی عوام کو نقصان پہنچے گا، لیکن ان کی منطق کے مطابق ایرانی عوام آزادی کے لیے تکلیف اٹھانا چاہتے ہیں اور خود کہتے ہیں کہ آؤ بمباری کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام درحقیقت آزادی چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران نے 7 دن کی مہلت مانگی تھی، میں نے کہا اسٹیو انہیں 10 دن دے دو، آج 10 دن کی مہلت ختم ہوگئی، لیکن ایسٹر کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھا، اب ان کے پاس منگل کی رات آٹھ بجے تک کا وقت ہے، اس کے بعد ان کے پاس کوئی پل اور کوئی پاور پلانٹ نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو، میں سمجھتا ہوں کہ وہ مخلص انداز میں بات کر رہے ہیں، اس جنگ سے بہت سے دیگر ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، اس کے بعد ان کے پاس کوئی پل اور کوئی پاور پلانٹ نہیں ہوگا۔

پریس بریفنگ کے دوران انھوں نے ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے بعد کیے گئے بڑے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات بھی جاری کیں، ٹرمپ کے مطابق ایک امریکی ایف-15 طیارہ ایران میں ایک آپریشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، تاہم اس میں سوار دونوں اہلکار بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ محفوظ رہا جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا، جسے ایرانی فورسز اور مقامی افراد تلاش کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ زخمی پائلٹ ایک بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، جہاں اس نے خود اپنے زخموں کا علاج کیا اور ایک خصوصی کمیونیکیشن ڈیوائس (بیپر طرز) کے ذریعے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا۔

ٹرمپ کے مطابق پائلٹ کی تلاش اور بازیابی کے لیے تقریباً 200 امریکی فوجیوں کو تعینات کیا گیا اور ایک تاریخی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس میں 4 بمبار طیاروں، 13 ریسکیو ایئرکرافٹ سمیت مجموعی طور پر تقریباً 150 طیاروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فورسز سات مختلف مقامات پر پھیل گئیں تاکہ ایرانی فورسز کو الجھایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران نچلی پرواز کرنے والے کئی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر شدید فائرنگ ہوئی، حتیٰ کہ امریکی ہیلی کاپٹروں کو بھی متعدد گولیاں لگیں، تاہم فوری مرمت کے ذریعے انہیں دوبارہ قابلِ پرواز بنا دیا گیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کچھ کمپنیوں کو ایسی مرمت میں کئی دن لگ جاتے، مگر امریکی فوج نے یہ کام محض 10 منٹ میں انجام دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شدید موسمی اور زمینی حالات، خصوصاً ریت کی وجہ سے دو پرانے طیارے پرواز نہ کرسکے، جس کے بعد امریکی فورسز نے کم وزن طیاروں کے ذریعے وہاں پہنچ کر ان طیاروں کو بھی تباہ کر دیا تاکہ کوئی اور انہیں استعمال یا جانچ نہ سکے۔

ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام نے زخمی پائلٹ کو پکڑنے پر انعام کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم امریکی فوج نے تمام خطرات کے باوجود کارروائی کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے آپریشن میں کوئی بھی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور تمام طیارے شدید نقصان کے باوجود بحفاظت واپس لوٹ آئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فوج کو واضح ہدایت دی تھی کہ کسی بھی صورت میں اپنے اہلکاروں کو واپس لایا جائے، کیونکہ امریکی فوج کسی کو پیچھے نہیں چھوڑتی۔

اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا اور اس آپریشن میں غیر معمولی مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

قبل ازٰن امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیارکیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہیں تو جنگ سے ابھی نکل سکتے ہیں، لیکن میں اس جنگ کو انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار نہ ہوں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آپ چاہیں اسے کچھ بھی کہیں میں اسے حکومتی تبدیلی کہتا ہوں۔ پہلی اور دوسری رجیم ختم کر دی گئی، تیسری سے بات ہو رہی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ شدت پسند نہیں بلکہ زیادہ اسمارٹ ہیں۔ اگر ہم ایران کا نیوکلیر تباہ نہ کرتے تو اسرائیل ختم ہو چکا ہوتا اور پورا مشرق وسطی پریشانی کا شکار ہو جاتا۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر وہ نہیں مانیں گے تو کوئی پل یا پاور پلانٹ نہیں بچے گا۔ میری چوائس پوچھیں تو میں ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ایرانی عوام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن انہیں کہا جاتا ہے کہ احتجاج کرو گے تو گولی مار دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایرانی عوام کے لیے بندوقیں بھیجی تھیں، لیکن جن لوگوں کے ذریعے ہم نے گنز بھجوائیں، انہوں نے خود رکھ لیے۔ میں ان لوگوں سے ناراض ہوں اور انہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ جیسے ہی ایرانی عوام کے پاس ہتھیار پہنچیں گے، وہ لڑیں گے۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس اطلاعات ہیں کہ 45 ہزار احتجاج کرنے والوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس کچھ میزائل اور ڈرونز بچے ہیں اور ایک لکی شاٹ سے ہمارا جہاز گر گیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کی منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے۔ انہوں نے امریکی تجویز پر ایران کے ردعمل کو اہم قرار دیا، مگر کہا کہ یہ کافی نہیں ہے۔ انہیں ایران میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے متعلق خدشات کی کوئی فکر نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ بندی کرنا چاہے گا کیونکہ ان کا خاتمہ ہو رہا ہے، تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کو کئی مواقع دیے جو انہوں نے ٹھکرادیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کُشنر اور جے ڈی وینس شامل ہیں، ہم نے رجیم کی تبدیلی کر لی ہے اور اب وہاں اعتدال پسند لوگ ہیں۔

ٹرمپ سے ان کے گزشتہ روز کے بیان میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر سوال بھی کیا گیا جس کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا نکتہ نظر واضح کرنے کے لیے ایسا کیا، میرا خیال ہے آپ نے پہلے بھی ایسا سنا ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جو امریکی شہری جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بے وقوف ہیں۔

Read Comments