جنگ بندی کی تجاویز، ایران نے امریکا کو پاکستان کے ذریعے 10 نکاتی جواب بھجوا دیا
پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کی کوششیں ایک نئے اور نازک موڑ پر آ گئی ہیں۔ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسے عارضی نہیں بلکہ صرف مستقل جنگ بندی قبول ہوگی۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، تہران کا موقف ہے کہ عارضی جنگ بندی کا مطلب امریکا اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دینا ہے تاکہ وہ ایران کے خلاف نئے جرائم کر سکیں۔
ایران نے اپنے دس نکاتی جواب میں مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں تمام حملے بند کیے جائیں، ایران پر لگی پابندیاں ختم ہوں اور جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کا مالی ازالہ کیا جائے۔
ایران نے یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ جب تک مستقل جنگ بندی نہیں ہوتی، عالمی معیشت کے لیے اہم ترین راستہ ’آبنائے ہرمز‘ بند رہے گا۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی جواب کو مسترد کرتے ہوئے ایک انتہائی سخت الٹی میٹم جاری کیا ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر منگل کی رات تک ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ ایران کے تمام بجلی گھروں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ رات کل کی بھی ہو سکتی ہے۔
اس بیان کے بعد ایران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ایرانی وزارتِ خارجہ نے اسے ’دہشت گردی پر اکسانے‘ اور ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے نائب وزیر کھیل نے فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیر بنا کر احتجاج کریں تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ عوامی تنصیبات پر حملہ جنگی جرم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بھی اس وقت صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران سمیت ایران کے مختلف حصوں میں سرکاری تنصیبات پر حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کر لی ہے۔
ان حملوں میں تہران کے رہائشی علاقوں اور ایک اہم سائنسی یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس پر ایران نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا۔
جواب میں ایران نے بھی اسرائیل کی طرف میزائل داغے ہیں، جس کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں سائرن بج اٹھے ہیں اور وہاں کے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چھ ہفتوں سے جاری اس جنگ نے نہ صرف ہزاروں جانیں لی ہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔
امریکا میں بھی اس جنگ کے اثرات صدر ٹرمپ کی مقبولیت پر پڑ رہے ہیں۔
اب دنیا بھر کی نظریں منگل کی اس ڈیڈ لائن پر لگی ہیں کہ آیا فریقین کسی معاہدے پر پہنچ پائیں گے یا خطہ ایک ایسی ہولناک تباہی کی طرف بڑھے گا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔