آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے امریکا ٹیکس لے گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اب امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے خود ٹیکس (ٹول ٹیکس) وصول کر سکتا ہے۔
پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کی جانب سے جہازوں سے وصول کیے جانے والے ٹیکس کے باوجود جنگ ختم کر دیں گے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کیوں نہ ہم خود یہ ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیں؟
ان کا کہنا تھا کہ ایران عسکری طور پر شکست کھا چکا ہے اور چونکہ امریکا اس جنگ میں فاتح بن کر ابھرا ہے، اس لیے اس راستے پر کنٹرول اور وہاں سے ہونے والی آمدنی پر بھی ہمارا حق ہونا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران اب صرف نفسیاتی حربے استعمال کر رہا ہے اور سمندر میں چند بارودی سرنگیں بچھا کر ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ ہار چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی امن معاہدے کی پہلی شرط یہ ہوگی کہ تیل کی ترسیل کے لیے سمندری راستہ مکمل طور پر آزاد اور محفوظ ہو۔
یاد رہے کہ جنگ کی وجہ سے اس اہم سمندری راستے کی بندش نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑ رہا ہے۔
امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایک ڈالر فی گیلن سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، جس نے حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے حال ہی میں ایک ایسا نظام اپنایا ہے جس کے تحت وہ چند مخصوص جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے بدلے ان سے بھاری رقم وصول کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو یہ فائدہ اٹھانے دینے کے بجائے خود یہ نظام سنبھالنا پسند کریں گے۔
اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا اس ٹیکس کی وصولی کا آغاز کب اور کیسے کرے گا، لیکن اس بیان نے عالمی منڈیوں اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں جاری اقتدار کی جنگ ایک نئے معاشی رخ اختیار کر سکتی ہے۔