جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہوگئیں: ایرانی سفیر

پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
شائع 07 اپريل 2026 12:12pm

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ روکنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں اب ایک انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

رضا امیری نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا کہ ”جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی خیر سگالی اور ثالثی کی مثبت اور نتیجہ خیز کوششیں ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں… مزید تفصیلات کے لیے جڑے رہیں۔“

پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ تاہم، یہ کوششیں اس وقت ایک نازک موڑ پر آ گئی ہیں۔

ایران نے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی امریکا کی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اسے عارضی نہیں بلکہ صرف مستقل جنگ بندی قبول ہوگی، کیونکہ عارضی وقفے کا مطلب دشمن کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دینا ہے۔

ایران نے اپنے دس نکاتی جواب میں واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا جب تک خطے میں تمام حملے بند نہیں ہوتے اور ایران پر لگی پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں۔

ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ جنگ سے ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس جواب کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک ہولناک دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ نے الٹی میٹم جاری کیا ہے کہ اگر منگل کی رات تک ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور تمام بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد ایران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہاں کی وزارتِ خارجہ نے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔

اس کشیدگی کے دوران ایران کے نائب وزیر کھیل نے ملک کے نامور کھلاڑیوں اور فنکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی گھروں اور عوامی تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بنا کر احتجاج کریں تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ شہری ڈھانچے پر حملہ کس قدر سنگین جرم ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی تجاویز کا جائزہ ضرور لے رہے ہیں لیکن وہ کسی بھی قسم کی ڈیڈ لائن یا بیرونی دباؤ کے تحت فیصلہ نہیں کریں گے۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت پسِ پردہ انتھک محنت کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے برقرار رکھے تاکہ کسی طرح مفاہمت کی کوئی راہ نکالی جا سکے۔

Read Comments