ایرانی شہری امریکی حملوں سے بجلی گھروں، پلوں کی حفاظت کے لیے نکل آئے
شمال مغربی ایران کے شہر تبریز سمیت ملک کے دیگر حصوں میں ایرانی شہری امریکی حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ عوام نے بجلی گھروں اور پلوں کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر ممکنہ حملوں کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی اور ڈیڈلائن دینے کے بعد ایرانی قوم بھی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی، بڑی تعداد میں شہری پلوں اور پاورپلانٹس پر پہنچ گئے۔
ایرانی پرچم لہراتے ایرانیوں نے پلوں اور پاورپلانٹس پر انسانی زنجیر بنالی، امریکا کے خلاف نعرے بازی بھی، جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی نائب وزیر برائے نوجوان امور علیرضا رہیمی نے نوجوانوں، طلبہ، فنکاروں اور کھلاڑیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ریاستی اہمیت کے حامل تنصیبات کے تحفظ کے لیے اس اقدام میں حصہ لیں۔
یہ مظاہرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے نہ دینے پر انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی کے بعد سامنے آئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی حکام نے انسانی زنجیروں کو “روشن مستقبل کے لیے ایرانی نوجوانوں کی کوشش” قرار دیا ہے اور اسے ملکی اثاثوں کے تحفظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کی موجودگی کو عوامی یکجہتی اور قومی حفاظت کے جذبات کی علامت قرار دیا گیا ہے۔