جنگ بندی معاہدہ، ایران و عمان آبنائے ہرمز پر جہازوں سے مشترکہ ٹیکس لیں گے: امریکی میڈیا

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس کی تجویز کا ایران اور عمان کا نیا منصوبہ عالمی تشویش کا باعث کیوں ہے؟
شائع 08 اپريل 2026 08:08am

امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران ایک اہم اور نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز اِس منصوبے پر بات چیت کی گئی ہے اور فیس عائد کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران اس رقم کو تعمیرِ نو کے کاموں میں استعمال کرے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عمان اپنی حاصل کردہ رقم کس مقصد کے لیے خرچ کرے گا۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ہے، لیکن اب تک دنیا اسے ایک بین الاقوامی آبی راستہ سمجھتی آئی ہے جہاں سے گزرنے کے لیے کبھی کوئی فیس ادا نہیں کی گئی۔

ایران اب یہ چاہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے حصے کے طور پر اسے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیس جہاز کی قسم، اس پر لدے سامان اور دیگر حالات کو دیکھ کر مقرر کی جائے گی۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ”ہم عمان کے ساتھ مل کر ایک ایسا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں جس کے تحت جہازوں کو یہاں سے گزرنے کے لیے اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنے ہوں گے تاکہ اس راستے سے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا سکے۔“

عالمی سطح پر اس تجویز کو شدید تنقید اور تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ جدید تاریخ میں کبھی بھی کسی قدرتی آبی گزرگاہ پر اس طرح یکطرفہ طور پر فیس لاگو نہیں کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ ”تیل کی بلا روک ٹوک ترسیل ایران کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔“

خلیجی ممالک، جو اپنی معیشت کے لیے اسی راستے پر منحصر ہیں، خاصے فکر مند ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ یہ راستہ کسی بھی ملک کا یرغمال نہیں بن سکتا، جبکہ قطر نے موقف اختیار کیا ہے کہ مالی معاملات پر بات کرنے سے پہلے اس راستے کو مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی قدرتی آبنائے کے ساحلی ممالک وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے صرف مخصوص خدمات جیسے کہ رہنمائی یا ٹگ بوٹ کی فیس لے سکتے ہیں، لیکن محض گزرنے کا ٹیکس نہیں لگا سکتے۔

اس کے برعکس نہر سوئز یا نہر پانامہ جیسے راستے انسانوں نے خود کھود کر بنائے ہیں، اس لیے وہاں فیس وصول کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس فیصلے پر اصرار کرتا ہے تو عالمی برادری کے لیے اسے روکنا مشکل ہوگا کیونکہ ایران کے پہاڑی ساحلوں پر موجود مضبوط فوجی پوزیشنز اسے یہ طاقت دیتی ہیں کہ وہ دور تک جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا چین، جو اس راستے سے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس معاملے میں ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا یا نہیں۔

Read Comments