یورینیم افزودگی، ہرمز کا کنٹرول: ایران کی 10 شرائط کیا ہیں؟

ایران نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک عارضی وقفہ ہے اور اسے جنگ کا خاتمہ نہ سمجھا جائے۔
اپ ڈیٹ 08 اپريل 2026 09:44am

پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران نے اسے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی ایک بڑی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی دھمکیاں واپس لینا اور مذاکرات پر آمادگی دراصل ایران کے دس نکاتی منصوبے کو اصولی طور پر تسلیم کرنا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران نے ایک بڑی فتح حاصل کی ہے اور مجرم امریکا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ہمارے دس نکاتی منصوبے کو قبول کرے۔

کونسل کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن ایک ماہ سے جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا لیکن ایران نے تمام ڈیڈ لائنز کو مسترد کرتے ہوئے جنگ جاری رکھی تاکہ دشمن کو پشیمان کیا جا سکے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے بند کر دیے جائیں تو تہران اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی نگرانی کریں گی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا نے مذاکرات کے لیے ایران کے دس نکاتی منصوبے کے عمومی ڈھانچے کو قبول کر لیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کے یورینیم کے معاملے کو بہترین طریقے سے سنبھال لیا جائے گا، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

ایران کے اس دس نکاتی منصوبے میں انتہائی سخت مطالبات شامل ہیں جن میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت نہ کرنے کا امریکی وعدہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا مستقل کنٹرول اور ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرنا سرفہرست ہیں۔

ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی اندرونی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ان تجاویز میں ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عزم شامل ہے، جبکہ اس کے بدلے میں ایران اور اس کے حامی گروہوں کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کی جائے گی۔ اس مجوزہ منصوبے میں خطے سے امریکی جنگی افواج کے ممکنہ انخلاء اور علاقائی اڈوں سے ایران پر کسی بھی حملے پر پابندی کی بات بھی کی گئی ہے۔

ان مذاکرات کے دوران ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے جہاں اگلے دو ہفتوں کے لیے ایران کے مخصوص قواعد و ضوابط اور سیف پیسج پروٹوکول کے تحت جہازوں کے محدود یومیہ گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس کے علاوہ ایران نے اپنے اوپر لگی تمام بنیادی، ثانوی اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ایک سرمایہ کاری اور مالیاتی فنڈ بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایران کے معاشی نقصانات کو پورا کیا جا سکے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرے گا اور اس کی حد مقرر کرنے پر بحث کی جائے گی۔

اس دس نکاتی ایجنڈے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کو خطے کے ممالک کے ساتھ دو طرفہ اور کثیر جہتی امن معاہدے کرنے کی اجازت دی جائے گی اور عدم جارحیت کی پالیسی کا دائرہ کار خطے کے تمام مزاحمتی گروہوں تک بڑھایا جائے گا۔

ان تمام وعدوں اور معاہدوں کی قانونی حیثیت کو یقینی بنانے کے لیے انہیں اقوام متحدہ کی باقاعدہ قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔

تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بند ہونی چاہیے، حالانکہ اسرائیل نے لبنان کے حوالے سے اپنا موقف الگ رکھا ہے۔

اس تمام تر پیش رفت کے باوجود ایران نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک عارضی وقفہ ہے اور اسے جنگ کا خاتمہ نہ سمجھا جائے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ صرف اسی صورت ختم ہوگی جب مذاکرات کے ذریعے ان کے تمام مطالبات کی تفصیلات طے پا جائیں گی۔

سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاتھ اب بھی ٹریگر پر ہیں اور اگر دشمن نے ذرا سی بھی غلطی کی تو اسے پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

تہران اس وقت جنگ بندی کو اپنی طاقت منوانے اور خطے کی سیاست کو اپنے حق میں بدلنے کے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے ابھی تک ایران کے ان بلند و بانگ دعوؤں کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

Read Comments