پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی؛ بھارتی اور اسرائیلی میڈیا میں ماتم کا سماں

پاکستان کا ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے۔
اپ ڈیٹ 08 اپريل 2026 12:54pm

امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم سفارتی پل کے طور پر پاکستان کی غیر متوقع مگر بھرپور انٹری نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے، اور دنیا کے خطرناک ترین بحران کو ٹالنے میں پاکستان کے کردار نے بھارت اور اسرائیل دونوں کو خاصا پریشان کر دیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں۔

لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے۔

بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بھارتی نیوز اینکر کو شدید غصہ کرتے، پاکستان کا برا بھلا کہتے اور اسٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، یہ ویڈیو اے آئی سے بنائی گئی ہے۔ اس کے باوجود یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

علاوہ ازیں، اپنی خفت مٹانے کے لیے بھارتی میڈیا نے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں۔

بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ ”پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔“

واضح رہے کہ ایک طرف پاکستان ثالثی کی کوششوں میں مصروف تھا دوسری جانب بھارتی اور اسرائیلی میڈیا پر تباہی کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن جاری تھا۔

اسرائیلی میڈیا پر چلنے والے اس کاؤنٹ ڈاؤن پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی ڈیجیٹل نیوز ایجنسی کے نمائندے ایڈم نے لکھا: ”ایک بیمار اور خون کا پیاسا معاشرہ، اسرائیلی ٹیلی ویژن پر اس لمحے کے لیے الٹی گنتی (کاؤنٹ ڈاؤن کلاک) چلائی جا رہی تھی جب ٹرمپ ایران کی تہذیب کو مٹا دیں گے۔ لیکن اب ایران پر سے پابندیاں ہٹا دی جائیں گی اور آبنائے ہرمز پر بھی اس کا کنٹرول ہوگا۔ صہیونی آنسو بہا رہے ہیں۔“

امریکی صحافی ایتھن لیونز نے بھی اسرائیلیوں کو ’جانور‘ قرار دیا۔

یہ پیش رفت دیگر جگہوں پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

اسرائیلی حکام کسی بھی ایسے سفارتی انتظام سے سخت خوفزدہ ہیں جس سے ایران پر فوجی دباؤ کم ہو۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس بات سے خوش نہیں ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ اس کی مشاورت کے بغیر کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے۔

جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے۔ نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔

جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔

آیا یہ جنگ بندی ایک مستقل معاہدے میں بدل پائے گی یا نہیں، یہ ابھی غیر یقینی ہے۔ مذاکرات نازک ہیں، بداعتمادی اب بھی بہت زیادہ ہے اور فوجی سرگرمیاں مکمل طور پر بند نہیں ہوئی ہیں۔

لیکن سفارتی طور پر ایک حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان اب عالمی سیاست میں محض ایک فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک مذاکرات کار کے طور پر دوبارہ داخل ہو گیا ہے۔

Read Comments