’ایران امریکا کے لیے مزید خطرہ نہیں رہا‘: وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا فتح کا دعویٰ

امریکا نے ایران کے خلاف صرف 10 فیصد طاقت کا استعمال کیا: پیٹ ہیگسیتھ کی بریفنگ
اپ ڈیٹ 08 اپريل 2026 06:12pm

امریکا کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب وہ طویل عرصے تک جنگ کے قابل نہیں رہا۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا اور واضح کیا کہ جنگ بندی مستقل نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔

وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران 47 سال سے امریکا کے لیے خطرہ تھا، جو اب نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ حملوں میں طے شدہ تمام اہداف حاصل کر لیے اور ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا اور دو ہفتے کی جنگ بندی ہوئی۔

پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے تاریخ رقم کی ہے اور اس سے قبل کسی بھی امریکی صدر کو ایسی کامیابیاں حاصل نہیں ہوئی ہیں۔

پیٹ ہیگستھ نے ایران کی شکست کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےایران کے خلاف صرف 10 فیصد طاقت استعمال کی اور 800اہداف کونشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جب کہ فضائی دفاعی نظام بھی ختم کر دیا گیا ہے، اب ان کے پاس صرف زیرِ زمین بنکرز بچے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام بھی عملی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ ہمارے یا کسی کے لیے خطرہ نہیں رہا۔

جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران میں امریکی فوجی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم موجودہ جنگ بندی کو مستقل امن نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ سمجھا جانا چاہیے۔ امریکی افواج تیار ہیں اور ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں موجود رہے گی تاکہ ایران کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یورینیم کے حوالے سے ہم نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ان کے پاس کیا ہے اور وہ اسے ہمارے حوالے کریں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم خود اسے حاصل کر لیں گے۔

دوسری جانب پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی ہے، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے وفود جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کریں گے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو بدھ کی صبح تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل فریقین نے عارضی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق کیا۔

ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے دونوں طرف سے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد متوقع ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی ’اِرنا‘ کے مطابق، امریکا سے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کیے جانے کا امکان ہے۔

Read Comments