امریکا سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے، موجودہ صورتحال میں مذاکرات بے سود ہیں: ایران
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکا پر اہم معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں سیز فائر یا کسی بھی قسم کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
رپورٹس کے مطابق باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکا لبنان سیز فائر، ڈرون حملوں اور ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے متعلق طے شدہ نکات کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن اصولوں اور شرائط کی بنیاد پر معاملات کو آگے بڑھایا جانا تھا، ان پر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں مذاکرات کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ایک فریق معاہدوں کی پاسداری نہ کرے تو سیز فائر یا ڈائیلاگ محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اگر ایران چاہتا ہے کہ لبنان کے معاملے کو بنیاد بنا کر مذاکرات ختم کر دیے جائیں تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیز فائر مکمل طور پر خامیوں سے پاک نہیں ہوتا، معمولی مسائل ہر معاہدے کا حصہ ہوتے ہیں۔
ایرانی اسپیکر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ انہوں نے باقر قالیباف کا بیان دیکھا ہے، جس میں تین نکات پر اختلاف کی بات کی گئی ہے، اور یہ ایک مثبت پیش رفت بھی ہو سکتی ہے کہ اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہے، بصورت دیگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ دوبارہ جنگی حکمت عملی اختیار کریں۔