’حقیقی معاہدے‘ پر مکمل عملدرآمد تک امریکی فوج ایران کے گرد موجود رہے گی: ٹرمپ کی وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی فوج ایران کے گرد اس وقت تک موجود رہے گی جب تک کسی بھی معاہدے پر مکمل اور حقیقی عملدرآمد یقینی نہیں ہو جاتا، بصورت دیگر سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار موجود رہیں گے، جبکہ اضافی گولہ بارود، ہتھیار اور دیگر ضروری سازوسامان بھی تعینات رکھا جائے گا تاکہ پہلے سے کمزور کیے گئے دشمن کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ امکان کم ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی جائے گی، تاہم اگر کسی بھی وجہ سے ایسا ہوا تو پھر کارروائی کا آغاز ہو جائے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑی، مضبوط اور شدید ہو گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کافی عرصہ قبل اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا اور محفوظ رکھا جائے گا، چاہے اس کے برعکس کسی بھی قسم کا پروپیگنڈا کیوں نہ کیا جائے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، جس کے نتیجے میں چھ ہفتوں سے جاری لڑائی رک گئی اور عالمی منڈیوں میں وقتی بہتری دیکھنے میں آئی، کیونکہ آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی۔
ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ممکن ہوگی، تاہم اس کے لیے ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی ضروری ہوگی۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے روکنے کے ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کی، تاہم اس نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔
اسی تناظر میں اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان پر شدید حملے کیے، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے سخت کارروائیاں قرار دی جا رہی ہیں۔
ان حملوں کے بعد ایران کی جانب سے ردعمل سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ایسے حالات میں امریکا کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنا غیر معقول ہوگا۔