نیتن یاہو کے خلاف فوجداری مقدمے کی سماعت کا اتوار سے دوبارہ آغاز

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسرائیلی وزیراعظم کے فوجداری مقدمے پر ردعمل آگیا۔
شائع 09 اپريل 2026 10:31pm

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف فوجداری مقدمے کی سماعت جنگی حالات کے باعث عارضی تعطل کے بعد اتوار سے دوبارہ شروع کی جائے گی۔

عدالتی نوٹس کے مطابق اگلی سماعت اتوار صبح 9:30 بجے یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہوگی، جہاں دفاعی گواہ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہنگامی صورت حال کے خاتمے اور عدالتی نظام کی معمول پر واپسی کے بعد سماعتیں اب معمول کے شیڈول کے مطابق ہوں گی، جن کے تحت اتوار کو یروشلم جب کہ پیر سے بدھ تک تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں کارروائی جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ یہ تعطل صرف نیتن یاہو کے مقدمے تک محدود نہیں تھا۔ 28 فروری کو ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد وزارت انصاف نے عدالتوں میں ”خصوصی ہنگامی نظام“ نافذ کیا تھا، جس کے تحت صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت جاری رکھی گئی۔

یہ ہنگامی نظام متعدد بار توسیع کے بعد جمعرات تک برقرار رہا تاہم اب اس کے خاتمے کے ساتھ ہی نیتن یاہو کا مقدمہ سمیت دیگر غیر ہنگامی فوجداری اور سول مقدمات کی سماعتیں بھی دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا نیتن یاہو کے مقدمے پر ردعمل

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے فوجداری مقدمے اور خطے کی صورت حال پر ردعمل دیا ہے۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف فوجداری مقدمے کی سماعت اتوار سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے، اگر خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ بندی، بشمول لبنان، عمل میں آتی ہے تو اس سے ان کی ممکنہ سزا میں تیزی آ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا سفارتی عمل کو متاثر ہونے دیتا ہے اور نیتن یاہو کو سفارت کاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ ان کے مطابق ایسا اقدام امریکی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اس صورت حال کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔

Read Comments