دبئی کی غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں، بھارتی کمپنیوں کو مالی نقصان کا خدشہ
ایران جنگ کے باعث دبئی نے غیر ملکی ایئرلائنز کی پروازوں کو محدود کرتے ہوئے 31 مئی تک ہر ایئرلائن کو اپنے ہوائی اڈوں کے لیے روزانہ صرف ایک پرواز کی اجازت دے دی ہے، اس فیصلے کے بعد بھارتی ایئرلائنز کو بڑے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کیوں کہ انہوں نے دیگر ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ پروازوں کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دبئی ایئرپورٹس کی جانب سے 27 مارچ کو جاری ایک نجی ای میل کے مطابق، 20 اپریل سے 31 مئی تک موسم گرما کے دوران دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور المکتوم کے لیے ہر غیر ملکی ایئرلائن کو روزانہ صرف ایک آنے جانے والی پرواز (راؤنڈ ٹرپ) کی اجازت ہوگی۔
یہ فیصلہ ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے بعد کیا گیا ہے، جس کے باعث فضائی آپریشنز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر گنجائش بڑھی تو اضافی سلاٹس فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
بڑی بھارتی ایئرلائنز جیسے اسپائس جیٹ، انڈیگواورایئرانڈیا کی نمائندگی کرنے والی فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دبئی حکام پر ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالے۔ بصورت دیگر، دبئی کی ایئرلائنز بشمول فلائے دبئی اور ایمریٹس کے خلاف جوابی اقدامات پر غور کیا جائے۔
بھارتی ایئرلائنز پہلے ہی بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اورمغربی ممالک کے لیے طویل فضائی راستوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار ہیں کیوں کہ گزشتہ سال پاک-بھارت کشیدگی کے بعد انہیں پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں دبئی کی مقامی ایئرلائنز پر لاگو نہیں ہو رہیں، جس سے مسابقتی میدان غیر مساوی ہو گیا ہے اور بھارتی ایئرلائنز کو نمایاں مالی نقصان ہوسکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے سب سے زیادہ مسافر بھارت سے آئے، جن کی تعداد 1 کروڑ 19 لاکھ رہی۔ اپریل اور مئی کے شیڈول کے مطابق ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس نے 750 سے زائد پروازیں شیڈول کی تھیں۔
اسی طرح انڈیگو کی 481، سعودیہ کی 480 اور گلف ایئر کی 404 پروازیں متوقع تھیں، اسپائس جیٹ نے 61 پروازوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ نئی پابندی کے تحت ہر غیر ملکی ایئرلائن کو ماہانہ صرف 30 یا 31 پروازوں تک محدود ہونا پڑے گا جب کہ ایمریٹس اور فلائے دبئی سینکڑوں پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انڈیگو کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور دبئی کی پابندیوں نے اس کے آپریشنز کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث اس کی پروازوں اور طیاروں کی استعداد کا بڑا حصہ استعمال نہیں ہو پا رہا۔
اسی طرح ایئرانڈیا ایکسپریس کا کہنا ہے کہ پابندیوں نے بھارت-یو اے ای روٹس پر مسافروں کے لیے آپشنز محدود کر دیے ہیں، خاص طور پر چھوٹے شہروں سے سفر کرنے والوں کے لیے، اور ایک منصفانہ و باہمی فریم ورک کی ضرورت اجاگر کی ہے۔
دوسری جانب لفتھانزا، سنگاپورایئرلائنز اور برٹش ایئرویز جیسی بڑی ایئرلائنز نے 31 مئی تک دبئی کے لیے اپنی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔ ان ایئرلائنز نے اس کے بجائے ایشیا-یورپ کے درمیان براہِ راست پروازیں بڑھا دی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔