اسلام آباد مذاکرات: ایران کے بعد امریکی وفد بھی پاکستان پہنچ گیا

میناب کے بچوں کی یاد میں جہاز کی 168 نشستیں خالی چھوڑی گئیں
اپ ڈیٹ 11 اپريل 2026 11:20am

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کا آج سے باضابطہ آغاز ہو رہا ہے۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران امریکا امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک طاقتور وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔

امریکی وفد کا استقبال نور خان ایئر بیس پر انتہائی پروٹوکول کے ساتھ کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی ایئر پورٹ پر موجود تھیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت کی آمد سے قبل سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے اور ایئر پورٹ سے اسلام آباد کے ریڈ زون تک کا راستہ مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔

اسلام آباد میں آج کا دن سفارتی طور پر انتہائی مصروف رہے گا، جہاں امریکی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایرانی وفد کے ساتھ آمنا سامنا متوقع ہے۔

اس سے قبل رات گئے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچا تھا۔

ایرانی وفد کا بھی اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود ایئر پورٹ پر انہیں خوش آمدید کہا۔ وفد کے استقبال کے لیے وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی موجود تھے۔

یہ وفد مجموعی طور پر 70 افراد پر مشتمل ہے، جس میں 26 تکنیکی ماہرین اور خصوصی کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔

یہ کمیٹیاں معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھتی ہیں اور مذاکرات کے دوران اپنی ماہرانہ رائے پیش کریں گی۔ اس کے علاوہ وفد میں 23 میڈیا نمائندے بھی شامل ہیں جو ان مذاکرات کی کوریج کریں گے۔

وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری علی اکبر، سینٹرل بینک کے سربراہ عبدالناصر اور متعدد ایرانی اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد پہنچنے والے اس وفد کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کو کامیاب بنانا ہے۔

اس پرواز کے دوران ایک انتہائی جذباتی منظر بھی دیکھا گیا جب ایرانی وفد کے جہاز کی سامنے والی قطاروں کو مکمل طور پر خالی چھوڑا گیا۔

یہ اقدام میناب میں ہونے والی کارروائی میں جان کی بازی ہارنے والے 168 بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

باقر قالیباف نے ان خالی نشستوں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ایک خاموش یادگار کے طور پر لکھا کہ یہ معصوم بچے اس پرواز میں میرے ساتھی ہیں۔

ایران کے اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کو جنگ کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصان کی طرف متوجہ کرنا تھا۔

پاکستان پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ یہاں آیا ہے۔

انہوں نے اپنے موقف میں سختی برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا پر کوئی اعتماد نہیں ہے، لیکن اگر امریکا ہمارے حقوق تسلیم کرے اور ایک حقیقی معاہدہ پیش کرے تو ہم معاہدے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی وفد سے باضابطہ بات چیت شروع کرنے سے قبل ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جہاں مذاکرات کے طریقہ کار اور ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی ممکنہ شرائط پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں ایران اور امریکا کے وفود پاکستان کی میزبانی میں بیٹھ کر ایک ایسے حل کی تلاش کریں گے جو نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و امان کے لیے سودمند ثابت ہو۔

Read Comments