ایران کی دھمکی پر امریکی دباؤ کام کر گیا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات طے پاگئے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اسرائیل اور لبنان کے نمائندے منگل کے روز واشنگٹن میں ملاقات کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل پر ڈالے گئے شدید دباؤ اور ایران کے سخت مؤقف کے بعد اسرائیل لبنان سے بات چیت پر راضی ہو گیا ہے۔
یہ جنگ کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست رابطہ کریں گے۔
صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس لڑائی کو روکا جائے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی نازک جنگ بندی کو کسی بڑے خطرے سے بچایا جا سکے۔
اس اہم پیش رفت کی بنیاد اس وقت پڑی جب ایران نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات سے قبل یہ شرط رکھی کہ اسرائیل لبنان پر حملے بند کرے۔
رائٹرز کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون کر کے حزب اللہ پر حملوں میں کمی لانے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد نیتن یاہو نے مذاکرات شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔
منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں واشنگٹن میں متعین اسرائیلی سفیر یشیل لیٹر اور ان کی لبنانی ہم منصب ندا حمادہ معوض شرکت کریں گی، جہاں جنگ بندی اور مستقبل کے امن عمل پر ابتدائی گفتگو کی جائے گی۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان اس جنگ میں اب تک لبنان میں 1888 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے پہلے ہی جنگ روکنے کے لیے براہِ راست مذاکرات اور تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
تاہم، دونوں ممالک کے موقف میں اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔
لبنان کا اصرار ہے کہ مزید کسی بھی معاہدے سے پہلے فوری طور پر جنگ بندی کی جائے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور ایک مستقل امن معاہدے کے بغیر حملے بند نہیں کرے گا۔
لبنان کی حکومت پر بھی اندرونی طور پر دباؤ ہے کہ وہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کو محدود کرے، لیکن حزب اللہ اسے قومی دفاع کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔
دوسری طرف پاکستان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات سے قبل اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے خطے میں جاری ہمہ جہتی جنگ کے رکنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔