امریکی خاتونِ اوّل میلانیا پر جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کا الزام، معاملہ کیا ہے؟

کانگریس سے کھلی سماعت کا مطالبہ، الزامات جھوٹ اور میری کردار کشی ہیں، امریکی خاتون اول
اپ ڈیٹ 11 اپريل 2026 12:54pm

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کردی۔

بین القوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق واشنگٹن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ نے کہا اُن پر الزامات جھوٹ اور کردار کُشی ہیں۔ امریکی خاتون اول نے ایپسٹین اسکینڈل کے متاثرین کےلئے کانگریس سے کھلی سماعت کا مطالبہ بھی کردیا۔

انہوں نے کہا، ’’میرے اور بدنام جیفری ایپسٹین کے درمیان تعلقات سے متعلق جھوٹ کو آج ختم ہونا چاہیے۔ جو لوگ میرے بارے میں غلط بیانی کر رہے ہیں وہ اخلاقیات، عاجزی اور احترام سے عاری ہیں۔‘‘

میلانیا ٹرمپ نے اپنے بیان کے بعد میڈیا کے سوالات لینے سے گریز کیا، جس کے باعث مزید سوالات جنم لے رہے ہیں، خاص طور پر یہ کہ یہ بیان ایسے وقت میں کیوں دیا گیا جب ایپسٹین کا معاملہ پس منظر میں جا چکا تھا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایک طویل عرصے سے جاری ایپسٹین تنازع سے بظاہر آگے نکل چکے تھے، جبکہ واشنگٹن کی سیاست کا مرکز حالیہ ایران جنگ بنی ہوئی ہے۔

میلانیا ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر اس معاملے کو سیاسی منظرنامے میں واپس لا کھڑا کیا ہے، حالانکہ صدر ٹرمپ عوام اور میڈیا سے اس معاملے کو پیچھے چھوڑنے کی اپیل کر چکے تھے۔

اپنے بیان میں میلانیا ٹرمپ نے 2002 کی ایک ای میل کا حوالہ بھی دیا، جس میں مخاطب کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ای میل میں ’’ڈیئر جی!‘‘ سے آغاز اور ’’ لو میلانیا‘‘ پر اختتام ہوتا ہے، جبکہ اس میں ایک میگزین آرٹیکل کی تعریف کی گئی ہے جو ایپسٹین کے بارے میں تھا۔

اسی ماہ شائع ہونے والے ایک میگزین مضمون میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین کو “بہترین شخص” قرار دیا تھا۔

میلانیا ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ نہ تو ایپسٹین کی دوست تھیں اور نہ ہی اس کی قریبی ساتھی اور سابق گرل فرینڈ گھسلین میکسویل کی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ نیویارک اور فلوریڈا میں ان کے سماجی حلقے کسی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔

انہوں نے میکسویل کو بھیجی گئی اپنی ای میل کو “عام نوعیت کی خط و کتابت” قرار دیا اور کہا کہ اس کا کوئی خاص مطلب نہیں لیا جانا چاہیے۔

دستاویزات میں ایپسٹین کے گھر کی ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں مختلف تصاویر کے ساتھ ایک دراز میں ڈونلڈ ٹرمپ، میلانیا ٹرمپ، ایپسٹین اور میکسویل کی مشترکہ تصویر موجود تھی۔

میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں کئی افراد اور ادارے ان کے بارے میں “جھوٹے الزامات” پر معافی مانگ چکے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک حالیہ مثال کا حوالہ دیا جب برطانوی اشاعتی ادارے ہارپر کولنز یوکے نے ایک کتاب میں شامل ان حوالوں پر معذرت کی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین نے میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کرائی تھی۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بیان سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم میلانیا ٹرمپ کے ترجمان نک کلیمنز نے کہا کہ ویسٹ وِنگ کو بیان جاری کرنے سے قبل آگاہ کر دیا گیا تھا، البتہ اس کے مندرجات سے متعلق تفصیل واضح نہیں کی گئی۔

حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کی توجہ زیادہ تر ایران جنگ پر مرکوز رہی ہے، جس کے باعث ایپسٹین کیس پس منظر میں چلا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ زیر بحث آیا جب حکومت نے ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں۔ یہ قانون عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد نافذ کیا گیا تھا تاکہ ایپسٹین اور اس کی ساتھیوں سے متعلق ریکارڈ کو منظر عام پر لایا جا سکے۔

ابتدائی طور پر محدود معلومات جاری کرنے پر قانون سازوں نے اعتراض کیا، تاہم حکام کا کہنا تھا کہ مزید دستاویزات کی جانچ پڑتال اور متاثرین کی حساس معلومات کے تحفظ کے لیے وقت درکار ہے۔

یورپ میں کئی اہم شخصیات کو ایپسٹین سے تعلقات پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم امریکا میں اس نوعیت کی کارروائیاں کم دیکھنے میں آئی ہیں۔

خاص طور پر برطانیہ کے سابق شہزادے پرنس اینڈریو کو حالیہ دستاویزات کے اجرا کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، تاہم ان پر جنسی الزامات کے بجائے خفیہ تجارتی معلومات شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

میلانیا ٹرمپ نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپسٹین کے متاثرین کے لیے عوامی سماعت کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ اپنی کہانیاں خود بیان کر سکیں۔

انہوں نے کہا، ’’ہر عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ چاہے تو کھلے عام اپنی کہانی سنائے۔ تب ہی ہم سچ تک پہنچ سکیں گے۔‘‘

Read Comments