1979 کے بعد امریکا اور ایران کی پہلی اعلیٰ سطح کی براہِ راست ملاقات
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی ملاقات اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ 2015 کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا، جو اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ہوا تھا۔ بعد ازاں 2018 میں اس معاہدے کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مزید محدود ہو گئے۔
امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اس کی جڑیں 1951 تک جاتی ہیں، جب ایران میں محمد مصدق کی حکومت کے دوران تیل کے وسائل پر قومیانے کی تحریک نے زور پکڑا۔ اس وقت برطانیہ کی اینگلو-ایرانی آئل کمپنی ایران کے تیل پر کنٹرول رکھتی تھی، اور قومیانے کے فیصلے نے مغربی طاقتوں کے ساتھ شدید اختلافات کو جنم دیا۔
1953 میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے برطانیہ کے ساتھ مل کر ایران کے منتخب وزیرِاعظم محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد شاہ محمد رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آئے۔ اس واقعے کو ایران میں بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھا گیا اور یہ امریکا مخالف جذبات کی بنیاد بنا۔
اس کے بعد 1954 میں کنسورشیم معاہدے کے تحت مغربی کمپنیوں کو ایران کے تیل کے شعبے میں بڑے حصے دیے گئے، جبکہ 1957 میں امریکا کے “ایٹمز فار پیس” پروگرام کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی ابتدائی بنیاد رکھی گئی۔
1960 کی دہائی میں اوپیک کے قیام کے ذریعے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے عالمی توانائی منڈی میں اپنی پوزیشن مضبوط کی، جبکہ 1970 کی دہائی تک ایران امریکا کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم اندرونی سطح پر سیاسی بے چینی بڑھتی رہی، جو بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب پر منتج ہوئی، جس کے بعد ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوا اور سابق شاہ ملک چھوڑ گئے۔
1979 کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ 1980 میں تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کیا گیا اور 52 امریکی اہلکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے۔
1980 سے 1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران امریکا نے عراق کی حمایت کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی مزید گہری ہوئی۔ اسی دور میں لبنان اور خلیج فارس میں مختلف واقعات نے بھی کشیدگی کو بڑھایا۔
1990 کی دہائی میں امریکا نے ایران پر اقتصادی اور تجارتی پابندیاں سخت کرنا شروع کیں، جبکہ 2002 میں ایران کو ’’Axis of Evil‘‘میں شامل کیے جانے کے بعد تعلقات مزید خراب ہو گئے۔
2003 سے 2015 کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں 2015 میں باراک اوباما کی حکومت میں جوہری معاہدہ طے پایا۔ تاہم 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں، جس کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔
2020 میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں محدود مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں جاری رہیں، لیکن بنیادی اختلافات برقرار رہے۔
2025 میں دوبارہ مذاکرات کی کوششوں نے رفتار پکڑی، جن میں مختلف ممالک کی ثالثی بھی شامل رہی۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر اب اسلام آباد میں ہونے والی یہ ملاقات دیکھی جا رہی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک ممکنہ نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔