ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں بارودی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ؛ امریکی لڑاکا طیارے کی پیش قدمی روک دی، تہران

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی جنگی جہاز کی خلاف ورزی سے متعلق ثالث کو خلاف ورزی سے آگاہ کیا گیا
شائع 11 اپريل 2026 07:30pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی کشتیاں تباہ کر دی گئی ہیں اور اسٹریٹ آف ہرمز کو صاف کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی لڑاکا طیارے کی پیش قدمی کو روک دیا گیا اور اسے وارننگ کے بعد واپس ہٹنا پڑا، ایران نے خلاف ورزی سے متعلق ثالث کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور ایران کی بارودی بردار کشتیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔

ان کے مطابق ایران کی تمام 28 بارودی کشتیاں سمندر کی تہہ میں پہنچ چکی ہیں اور اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کارروائی جاری ہے۔

ٹرمپ کے بیان کے چند منٹ قبل مختلف رپورٹس میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی بارودی کشتیاں تباہ ہونے کی بات درست نہیں۔

ایرانی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی لڑاکا طیارے نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ایرانی فوج کی وارننگ کے بعد اسے اپنی پیش قدمی روک کر واپس جانا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج نے واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر کوئی جنگی جہاز اپنی حرکت جاری رکھتا ہے تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس واقعے سے متعلق ثالث کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی جہاز آگے بڑھتا ہے تو اسے 30 منٹ کے اندر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ اس سے قبل بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے جب کہ اس کے میزائل اور جوہری پروگرام کو کمزور کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورت حال کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اس دوران اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں، جو موجودہ کشیدگی کے باعث انتہائی حساس قرار دیے جا رہے ہیں۔

Read Comments