تہران کا واشنگٹن پر عدم اعتماد: باقر قالیباف کا امریکی وفد کی ’ناکامی‘ کا دعویٰ
اسلام آباد مذاکرات کے اختتام کے بعد ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آ گیا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے پیغامات میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات سے قبل انہوں نے واضح طور پر اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کے پاس نیک نیتی اور سنجیدہ ارادہ موجود ہے، تاہم گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی بنیاد پر مخالف فریق پر کوئی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے لکھا کہ مذاکرات کے اس دور میں بھی مخالف فریق ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ وہ اس مذاکراتی عمل کو ممکن بنانے میں پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کی کوششوں پر شکر گزار ہیں، اور پاکستان کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات 21 گھنٹے کی طویل بحث کے بعد کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے خاتمے پر اسے ایران کے لیے بری خبر قرار دیا اور کہا کہ ان کی ٹیم اپنی آخری اور بہترین پیشکش سامنے رکھنے کے بعد اب واپس جا رہی ہے۔
جبکہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایرانی وفد نے 21 گھنٹے تک اپنے عوام کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کی، لیکن امریکی وفد کی ہٹ دھرمی اور بے جا مطالبات نے پیش رفت کو روک دیا۔