لبنان پر اسرائیل کا حملہ: باپ کے جنازے میں شریک کمسن بیٹی شہید

خاندان اپنے ایک عزیز، بچیوں کے والد کی تدفین کے لیے جمع تھا
اپ ڈیٹ 13 اپريل 2026 10:23am

جنوبی لبنان میں کیے گئے ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایک کمسن بچی سمیت مزید 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں صریفا میں سعید خاندان کے گھر پر بدھ کے روز ہونے والے اسرائیلی حملے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 7 سالہ ایلین سعید شدید زخمی حالت میں معجزانہ طور پر بچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب خاندان اپنے ایک عزیز، یعنی بچیوں کے والد کی تدفین کے لیے جمع تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جنگ بندی کی امید تھی، تاہم اسی دوران اچانک فضائی حملہ ہوا جس نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔

ایلین کے دادا ناصر سعید، جو خود بھی حملے میں زخمی ہوئے، نے بتایا کہ ’’ہم جنازے کے لیے گاؤں آئے تھے، دعا پڑھ رہے تھے کہ اچانک ایسا لگا جیسے کوئی طوفان ہم پر آ گرا۔‘‘

اتوار کے روز خاندان کے افراد جنوبی شہر صور میں اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے پہنچے، جہاں سبز کپڑوں میں لپٹی لاشوں میں ایک نہایت چھوٹی میت بھی شامل تھی، جو ایلین کی شیر خوار بہن تالین کی تھی، جس کی عمر ابھی دو سال بھی نہیں ہوئی تھی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں، تاہم دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اہداف حزب اللہ کے جنگجو ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق لبنان میں حالیہ کشیدگی کا آغاز 2 مارچ کو ہوا جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیلی پوزیشنز پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل نے فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دیں۔

ان حملوں میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اُدھر ویٹی کن میں خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے لبنانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ”شہری آبادی کو جنگ کے ہولناک اثرات سے بچانا اخلاقی ذمہ داری ہے۔“

لبنان میں حالیہ دنوں کی بمباری کو بدترین قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ طبی حکام کے مطابق زخمیوں کی بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہے اور اسپتالوں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

Read Comments