اسلام آباد مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس رابطے میں تھے: نیتن یاہو کا انکشاف

اسرائیلی وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ امریکی نائب صدر نے ایران مذاکرات کی ناکامی پر بریفنگ دی۔
اپ ڈیٹ 13 اپريل 2026 06:02pm

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس معاملے میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے امن مذاکرات کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کرنا پڑا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کاابینہ اجلاس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس معاملے پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہے اور واشنگٹن کے فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران طے شدہ نکات پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث صورت حال مزید کشیدہ ہوئی۔

بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران سے مذاکرات کے بعد ٹیلی فون پر بریفنگ دی ہے، جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے تحت جنگ بندی اور آبنائے کھولنے پر اتفاق ہونا تھا، تاہم ایران نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا، جس کے بعد امریکا کو بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ایران کے تمام افزودہ مواد کا خاتمہ اور آئندہ کئی برسوں تک یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق یہ معاملہ اسرائیل کے لیے بھی نہایت اہم ہے اور دونوں ممالک اس حوالے سے یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے امریکی اقدامات کی کھل کر حمایت خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیانات میں کہا تھا کہ اگرچہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق ہوا، تاہم سب سے اہم مسئلے یعنی جوہری پروگرام پر کوئی اتفاق پیدا نہیں ہوسکا ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گیا اور سمندر میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا جواز دے کر عالمی تجارت کو یرغمال بنا رہا ہے۔

امریکی صدر کے بیان کے بعد ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہیں یا پھر کسی کے لیے نہیں اور اس حوالے سے ایران اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کو اپنے عوام کا قانونی اور فطری حق سمجھتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا اور نہ ہی دیا جائے گا۔ ایرانی افواج کے مطابق دیگر بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ایران کے قواعد و ضوابط کے مطابق دی جائے گی۔

Read Comments