امریکا کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا الٹی میٹم ختم، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

کسی بھی ایرانی جہاز کو ہرمز سے باہر نکلنے نہیں دیا جائے گا: امریکی سینٹ کام
شائع 13 اپريل 2026 07:49pm

امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے دیا گیا الٹی میٹم ختم ہوگیا ہے، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جب کہ اہم سمندری گزرگاہ کی بحالی کے لیے برطانیہ اور فرانس نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر ایک اہم میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تو برقرار ہے لیکن امریکا اب ایران کی معاشی ناکہ بندی کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے۔

امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے دیا گیا الٹی میٹم ختم ہوگیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ایرانی جہاز کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے نہیں دیا جائے گا، ایران کو ٹول کی ادائیگی کرنے والے جہازوں کو بھی بندش کا سامنا کرنا ہوگا، ناکہ بندی کا نفاذ خلیج اور بحیرہ عمان میں بھی ایرانی بندرگاہوں پر ہوگا تاہم دیگر جہازوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں کشیدگی میں اضافہ

امریکی نیوی کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق نئے اقدامات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی نیوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آنے اور جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔ ایران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہازوں کو بھی روکنے کی کارروائی کی جائے گی اور ایسے جہازوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ انہیں ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے تک نہ پہنچنے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے بحری ناکہ بندی سے متعلق پیش رفت کے بعد پیر کے روز وال اسٹریٹ میں ابتدائی کاروبار کے دوران حصص کی قیمتوں میں کمی جب کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

کاروبار کے آغاز کے تقریباً 15 منٹ بعد ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 47,546.19 پوائنٹس پر آگیا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.3 فیصد کمی کے بعد 6,794.02 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا جب کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس بھی 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 22,826.38 پوائنٹس پر آگیا۔

اسی طرح عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ نارتھ سی کروڈ آئل کی قیمت میں 7.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 101.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 7.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 103.56 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔

نیٹو اتحادیوں میں اختلافات

آبنائے ہرمز میں ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے معاملے پر نیٹو اتحادیوں میں اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جہاں برطانیہ اور فرانس نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

نیٹو کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی کے منصوبے سے خود کو الگ کر لیا ہے۔

برطانیہ اور فرانس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوں گے اور نہ ہی ناکہ بندی کی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس منصوبے میں دیگر ممالک بھی شریک ہوں گے تاہم یورپی اتحادیوں کی جانب سے اس کی تردید سامنے آ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض یورپی ممالک نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم یہ مدد صرف اس صورت میں ہوگی جب دشمنی کا مستقل خاتمہ ہو اور ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو جائے جس کے تحت بحری جہازوں پر حملے نہ ہوں۔

ادھر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رُٹے نے مبینہ طور پر یورپی حکومتوں کو بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے جلد واضح اور عملی وعدے چاہتے ہیں۔

ڈپلومیٹ ذرائع کے مطابق مارک رُٹے نے 9 اپریل کو کہا تھا کہ اگر نیٹو کے 32 رکن ممالک اتفاق کریں تو اتحاد آبنائے ہرمز میں کسی مشن کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تجارت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اہم سمندری راستے کو کھولنے اور جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کے لیے 40 سے زائد ممالک کو اکٹھا کیا گیا ہے جو اس مقصد میں شریک ہیں۔

کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ برطانیہ اور فرانس رواں ہفتے ایک مشترکہ سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں تنازع کے خاتمے کے بعد عالمی بحری جہازرانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

’آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی پر یورپین یونین کا ردعمل

ادھر یورپی یونین نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے اس اہم سمندری گزرگاہ کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ سمندری راستوں کی بندش کو عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تجارت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر رہی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر بحال کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اہم سمندری راستوں کی بندش سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث دنیا بھر میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

صدر یورپی کمیشن کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے بغیر صورت حال بہتر نہیں ہو سکتی، انہوں نے لبنان پر جاری بمباری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب تک لبنان پر بمباری جاری رہے گی، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کرے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدام پیر کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے نافذ ہوگا اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر ہوگا۔

Read Comments