ایران نے خواتین فٹ بال ٹیم کی کپتان کے اثاثے بحال کر دیے
ایران کی عدلیہ نے خواتین قومی فٹبال ٹیم کی کپتان کے ضبط شدہ اثاثے بحال کر دیے، یہ اقدام ان کی جانب سے بیرونِ ملک پناہ کی درخواست واپس لینے کے بعد کیا گیا۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی عدلیہ نے خواتین قومی فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا غنبری کے ضبط شدہ اثاثے بحال کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتی حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کھلاڑی نے گزشتہ ماہ بیرونِ ملک پناہ کی درخواست واپس لے لی اور وطن واپسی اختیار کی۔ حکام نے کہا کہ یہ اقدام ان کے طرزِ عمل میں تبدیلی اور بے گناہی کے اعلان کے بعد کیا گیا۔
زہرا غنبری اُن کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے ایشیائی خواتین فٹبال مقابلوں میں شرکت کے بعد بیرونِ ملک پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم بعد ازاں وہ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایران واپس لوٹ آئیں، جہاں دارالحکومت میں ان کا استقبال بھی کیا گیا۔
اس سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ میں کچھ افراد کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہیں غداری کے الزامات کے تحت نامزد کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے، جس میں زہرا غنبری کا نام بھی شامل تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کے اثاثے کب ضبط کیے گئے تھے۔
حالیہ عدالتی فیصلے کو ایسے وقت میں سامنے آنے والا اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے جب ملک میں حساس معاملات پر سخت نگرانی جاری ہے اور ریاستی اقدامات پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
وضح رہے کہ ایران کی خواتین فٹبال ٹیم ایشیائی مقابلوں میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچی تھی، جہاں ایک میچ سے قبل قومی ترانے کے دوران کھلاڑی خاموش کھڑے رہے۔ اس واقعے کے بعد ٹیم کو ایرانی میڈیا میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔
بعد ازاں ٹیم کے متعدد ارکان نے مختلف حالات اور خدشات کے باعث آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دی، تاہم ان میں سے کئی کھلاڑی بعد میں وطن واپس لوٹ آئے۔ اس پورے معاملے کے دوران ایرانی حکام کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ واپس آنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر ٹیم کے سات ارکان نے ایشیائی کپ میں شرکت کے بعد آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دی تھی، تاہم وقت کے ساتھ بیشتر کھلاڑیوں نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ایران لوٹنے کو ترجیح دی۔ کپتان سمیت واپس آنے والے کھلاڑیوں کو ایران میں مختلف تقریبات کے دوران خیرمقدم بھی کیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس واپسی کو وطن سے وابستگی اور محب وطن فیصلہ قرار دیا، آسٹریلوی حکام کے مطابق کھلاڑیوں کو اپنے فیصلے کے لیے مختلف آپشنز دیے گئے تھے، تاہم انہوں نے واپس جانے کا انتخاب کیا۔ اس وقت ٹیم کے صرف دو ارکان آسٹریلیا میں موجود ہیں جو ایک مقامی کلب کے ساتھ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔