آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں، محاصرہ کیسے کام کرے گا؟

سمندر میں امریکی پہرہ اور قانون کی گرفت: کیا ایران کا راستہ روکنا جائز ہے اور بحری ناکہ بندی کا اصل طریقہ کار کیا ہے؟
شائع 14 اپريل 2026 09:34am

آبنائے ہرمز میں امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے عالمی سطح پر قانونی اور دفاعی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا امریکا کا یہ اقدام قانونی ہے؟ اور یہ محاصرہ کام کیسے کرے گا؟

بین الاقوامی قانون اور سمندری سلامتی کے ماہر ڈگلس گلفائل نے اس صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ بین الاقوامی قانون سمندری ناکہ بندی کو معاشی جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر تسلیم تو کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم شرائط اور حدود بھی وابستہ ہیں۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے پروفیسر ڈگلس گلفائل نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی کے قانونی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مؤثر ہو، یعنی وہ تمام جہازوں پر یکساں لاگو ہو۔

ان کے مطابق اب تک صرف ایک جہاز اس ناکہ بندی کو توڑ کر گزرنے میں کامیاب ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال یہ ناکہ بندی مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کی دوسری بڑی شرط یہ ہے کہ اس سے عام شہریوں کی زندگیوں پر برا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

ڈگلس گلفائل نے اس نکتے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عام آبادی کو بھوکا مارا جائے یا انہیں زندگی بچانے والی خوراک اور ادویات سے محروم کر دیا جائے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں غزہ کی ناکہ بندی پر بھی اسرائیل کو اسی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تجارت جس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسے اس راستے سے گزرنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔

الجزیرہ نے دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے اس وقت آبنائے ہرمز کے گرد 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں۔

اس ناکہ بندی کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر کوئی ایرانی جہاز یا ایران سے منسلک کوئی بحری بیڑا وہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے روک لیا جائے گا۔

اگر کوئی جہاز رکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو امریکی حکام ’کنٹیسٹڈ بورڈنگ‘ یعنی زبردستی جہاز پر قبضے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔

اس خاص آپریشن میں میرینز یا نیوی سیلز کے ماہر دستے حرکت میں آتے ہیں جو سمندر کے بیچوں بیچ جہاز پر سوار ہو کر اس کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں۔

امریکا اس طرح کی کارروائیاں حال ہی میں وینزویلا کی ناکہ بندی کے دوران تیل بردار بحری جہازوں پر کر چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی اعلان کے فوراً بعد ایک ایرانی جہاز وہاں سے کامیابی کے ساتھ گزرنے میں کامیاب رہا تھا، جو اب تک اس محاصرے کو ناکام بنانے والا واحد جہاز ہے۔

تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اس ایک واقعے کے بعد اب صورتحال ان کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

یہ آپریشن انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں نہ صرف جنگی جہازوں کی موجودگی ضروری ہے بلکہ ہر وقت الرٹ رہنا پڑتا ہے تاکہ کوئی بھی جہاز بین الاقوامی قوانین یا ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہ کر سکے۔

Read Comments