برازیل: چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کو بلیک لسٹ کرنے پر اعلیٰ افسر نوکری سے فارغ
برازیل میں لیبر قوانین سے متعلق ایک بڑا تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بی وائی ڈی کو متنازع فہرست میں شامل کرنے پر ایک اعلیٰ سرکاری افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس نے حکومت اور لیبر انسپکٹرز کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برازیل کے سیکریٹری برائے لیبر انسپیکشن لوئز فیلپے برانڈاؤ دی میلو کو اس وقت برطرف کیا گیا جب انہوں نے لیبر وزیر لوئز مارینہو کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بی وائی ڈی کا نام ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کردیا جن پر مزدوروں کو حکومت کے مطابق غلامی جیسی صورتحال میں رکھنے کا الزام ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیر لیبر نے واضح ہدایت دی تھی کہ بی وائی ڈی کو اس فہرست میں شامل نہ کیا جائے، تاہم میلو نے اس حکم کو نظر انداز کیا جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
میلو کی برطرفی کا باضابطہ اعلان پیر کے روز سرکاری گزٹ میں کیا گیا، جسے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا کی حکومت اور روایتی طور پر خودمختار سمجھے جانے والے لیبر انسپکٹرز کے درمیان جاری کشیدگی کا نیا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
برازیل کی لیبر منسٹری نے اس برطرفی کو انتظامی اقدام قرار دیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ لوئز فیلپے برانڈاؤ دی میلو نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
دوسری جانب لیبر انسپکٹرز کی قومی تنظیم انافیٹرا نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی کوششیں کمزور ہوں گی اور متنازع کمپنیوں کی فہرست کی افادیت متاثر ہوگی۔ تنظیم کے مطابق یہ برطرفی لیبر انسپیکشن کے عمل میں سیاسی مداخلت کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ تنازع 2024 کے ایک کیس کے بعد مزید شدت اختیار کرگیا تھا، جس میں 163 چینی مزدور ایک کنٹریکٹر کے تحت بی وائی ڈی کی برازیل میں قائم ہونے والی فیکٹری پر کام کرتے ہوئے غلامی جیسی حالت میں پائے گئے تھے۔
اس اسکینڈل کے بعد کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا جبکہ فیکٹری کی تعمیر کا کام بھی کئی ماہ تک تاخیر کا شکار رہا۔ یاد رہے کہ برازیل، چین کے بعد بی وائی ڈی کی دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔