آبنائے ہرمز کی بندش: جیٹ فیول بحران سے یورپی ایئرلائنز مشکلات میں آ گئیں
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے یورپی ایوی ایشن انڈسٹری کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، اس صورت حال کے پیش نظر یورپی ایئرلائنز نے یورپی یونین سے فوری ہنگامی اقدامات اور پالیسی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی ایئرلائنز کے نمائندہ گروپ ایئرلائنز فار یورپ نے ایک دستاویز میں یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں جیٹ فیول کی دستیابی کی نگرانی، ہوا بازی کے لیے کاربن مارکیٹ کی عارضی معطلی اور بعض ٹیکسز میں نرمی شامل ہے۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشے کے باعث یورپ میں جیٹ فیول کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کے مطابق اگر صورت حال برقرار رہی تو چند ہفتوں میں ایندھن کی شدید کمی ہو سکتی ہے۔
ایئرلائنز گروپ نے تجویز دی ہے کہ یورپی یونین مشترکہ طور پر کیروسین (جیٹ فیول) کی خریداری پر غور کرے، جیسا کہ 2022 میں توانائی بحران کے دوران قدرتی گیس کے لیے کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی رکن ممالک کے لیے ہنگامی تیل ذخائر کے قوانین میں ترمیم کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ جیٹ فیول کو واضح طور پر شامل کیا جا سکے۔
مزید برآں ایئرلائنز نے کہا ہے کہ جنگ اور فضائی حدود کی بندش کے باعث پروازوں میں خلل کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جائے تاکہ سلاٹس کے استعمال سے متعلق قوانین میں نرمی دی جا سکے۔
یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 اپریل کو توانائی مارکیٹ پر ایران تنازع کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کا پیکج پیش کرے گا، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس میں جیٹ فیول سے متعلق مخصوص اقدامات شامل ہوں گے یا نہیں۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنا ضروری ہے تاکہ غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے اور کشیدگی کے نئے مرحلے سے بچا جا سکے۔
میکرون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کسی شرط کے بغیر کھولا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق انہی شرائط کے ساتھ مذاکرات جلد دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں، جن میں تمام متعلقہ فریقوں کی حمایت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو تمام غیر ملکی جہازوں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے لیے بند کردیا تھا۔
یورپی ایوی ایشن سیکٹر بھی امریکا-اسرائیل اور ایران تنازع کے باعث متاثر ہے، جس کے نتیجے میں متعدد خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یورپی ایئرلائنز کو متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت بعض علاقوں میں پروازوں سے روک رکھا ہے۔
صورت حال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب اسلام آباد مذاکرات کے بعد ایران اور امریکا کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے، جس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ امریکا ایرانی جہازوں اور ایسے کسی بھی جہاز کو روک دے گا جو ایران کو ٹول ادا کرے گا، جب کہ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو ناکہ بندی کے قریب آنے پر تباہ کردیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔
گذشتہ روز اس معاملے پر نیٹو کے اختلافات بھی سامنے آئے۔ برطانیہ اور فرانس نے واضح کیا کہ وہ اس کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے، جب کہ یورپی یونین نے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے پر زور دیا ہے کیونکہ اس کی بندش عالمی تجارت اور سپلائی چین کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی صورت حال میں بہتری نہ آئی تو یورپ کو نہ صرف فضائی آپریشنز بل کہ وسیع تر توانائی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔