ایران سے مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے ایران-امریکا مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہونے کا عندیہ دے دیا۔
اپ ڈیٹ 14 اپريل 2026 09:34pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران-امریکا ثالثی کے حوالے سے کوششوں کو پاکستان کے انتخاب کی وجہ قرار دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کو فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران سے بات چیت کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے اور مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات بھی پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے بات چیت کے حوالے سے جلد پیش رفت متوقع ہے اور مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا امکان موجود ہے۔

اس سے پہلے نیویارک پوسٹ کو ہی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ پسِ پردہ پیش رفت جاری ہیں، تاہم اس کی رفتار سست ہے۔

اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہماری ملاقات وہاں (پاکستان) ہوگی۔ ہم شاید کسی اور مقام پر جائیں گے، ہمارے ذہن میں ایک اور جگہ ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ترکیہ کو زیرِ غور نہیں لا رہا بلکہ زیادہ کسی اور مقام پر غور کررہا ہے اور اس میں یورپ بھی شامل ہے۔

اس گفتگو کے بعد صدر ٹرمپ نے صحافی سے دوبارہ رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے بات چیت آئندہ دو دن میں پاکستان میں بھی ہوسکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صحافی کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو وہیں رہنا چاہیے کیوں کہ اگلے دو دن میں کچھ ہوسکتا ہے اور ہم اُس (پاکستان) طرف زیادہ مائل ہیں‘۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے معاملے پر مزید کہنا تھا کہ ’ہم کسی ایسے ملک کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو؟‘۔

انہوں نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ شاندار آدمی ہیں، اسی لیے عین ممکن ہے کہ ہم دوبارہ وہاں جائیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مذاکرات کے امکانات اس لیے زیادہ ہیں کیوں کہ ’فیلڈ مارشل اس معاملے میں بہترین کام کر رہے ہیں‘۔

اس سے قبل بیان امریکی صدر نے یورپی ممالک کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کے بجائے صرف اجلاسوں تک محدود ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تنازع کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں، جس میں خاص طور پر پاکستان پیش پیش ہے۔

صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود سفارتی سطح پر رابطے بحال کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں اور پاکستان ممکنہ طور پر دوبارہ مذاکرات کے دور اگلے دور کی میزبانی کرسکتا ہے۔

Read Comments