ایران جنگ نہیں مذاکرات چاہتا ہے: صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم امریکا کی جانب سے دباؤ ڈالنے یا ایران کو جھکانے کی کوئی بھی کوشش ناکام رہے گی۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت جنگ نہیں چاہتا بلکہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنی مرضی مسلط کرنے یا ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تو اسے کامیابی نہیں ملے گی۔
صدر پزشکیان نے شہریوں کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کے تحت شہریوں، ماہرین، بچوں کو نشانہ بنانے اور اسکولوں و اسپتالوں جیسے اہم مراکز کو تباہ کرنے کا کیا جواز ہے؟‘
دوسری جانب ایران کے وزیر سائنس حسین سیمائی سراف نے کہا ہے کہ ایران کو ایسے دشمن کا سامنا ہے ’جو نہ اخلاقیات کا پابند ہے، نہ قانون کا اور نہ کسی اور نظام کا‘۔
وہ تہران میں واقع ایرو اسپیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے دورے کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے، جسے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں عمارت کو پہنچنے والے شدید نقصان کو دکھایا گیا، جبکہ وزیر سائنس کا کہنا تھا کہ ’ملک میں قائم کوئی بھی تنصیب خطرے سے خالی نہیں ہے۔‘