امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10 ہزار اضافی فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ: واشنگٹن پوسٹ

جنگ بندی کے خاتمے پر دوبارہ آپریشن کی تیاری بھی کی جا رہی ہے: امریکی اخبار
شائع 15 اپريل 2026 05:18pm

امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور جاری کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوج کی موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہزاروں اضافی فوجی اور جنگی جہاز خطے میں بھیجے جا رہے ہیں جب کہ جنگ بندی کے خاتمے پر دوبارہ آپریشن کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) آئندہ چند روز میں تقریباً 10 ہزار اضافی فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ بھیج رہا ہے۔ ان میں تقریباً 6 ہزار اہلکار طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہازوں پر سوار ہیں جب کہ مزید 4 ہزار 200 اہلکار باکسر ایمفیبیئس ریڈی گروپ اور میرین کور کے دستوں کے ساتھ ماہ کے آخر تک خطے میں پہنچیں گے۔

یہ اضافی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود تقریباً 50 ہزار امریکی اہلکاروں میں شامل ہوں گے، جہاں ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکی افواج پہلے ہی تعینات ہیں۔ نئی تعیناتی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب دو ہفتوں کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کے لیے سمندری آمد و رفت پر پابندی کا اعلان بھی کیا ہے۔ امریکی حکومت ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم حالیہ دنوں میں مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا گیا تو جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

دوسری جانب ایران نے امریکی اقدامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خلیج فارس، خلیج عمان اور بحیرہ احمر میں تجارت بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی کا کہنا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے سخت اقدامات کرے گا۔

امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک درجن سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں تاکہ بلاک ایڈ کو مؤثر بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق ابتدائی کارروائیوں کے دوران چند تجارتی جہازوں کو روکا گیا تاہم انہیں بغیر کسی تصادم کے واپس ایرانی بندرگاہوں کی جانب بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو مزید سخت اقدامات، حتیٰ کہ زمینی کارروائیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جن میں خصوصی آپریشنز یا ایرانی تنصیبات پر قبضہ شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ایسی کارروائیاں نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں تمام آپشنز زیر غور ہیں جب کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ مزید بڑھایا جائے گا تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

Read Comments