پاکستان کی امن سفارت کاری: شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران

امن کی ہر کوشش میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا: محمد بن سلمان
اپ ڈیٹ 16 اپريل 2026 09:56am

سعودی عرب کے شہر جدہ کے قصرِ سلام میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے جدہ پہنچنے پر سعودی ولی عہد نے ان کا پرجوش استقبال کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان دو گھنٹے طویل بیٹھک ہوئی۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاک سعودی تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سعودی ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک تعاون کو بڑھانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی تعریف کی۔

انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ امن کی ہر کوشش میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان منفرد اور گہرے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک دفاعی معاہدوں کے تحت اہم شراکت دار ہیں۔

انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کو امن پسند لوگوں کے لیے طاقت کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ہی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور اسلام آباد میں مذاکرات کا تاریخی دور ہوا۔

دوسری جانب، پاکستان کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں تہران پہنچا تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ اس وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں۔

تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کا استقبال کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، فیلڈ مارشل کا یہ دورہ پاکستان کی ان سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور بین الاقوامی مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے اور مکمل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا تسلسل برقرار ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان اس وقت ایک کلیدی ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اپنے بیان میں پاکستان کی میزبانی اور کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہنا ہمارے لیے خوشی کی بات ہے، یہ دورہ دونوں ممالک کے عظیم تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

تہران میں پاکستانی وفد اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے مذاکراتی مرحلے پر بات چیت کی گئی۔

عالمی سطح پر پاکستان کے اس ثالثی کردار کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ کوششیں مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو رہی ہیں۔

Read Comments