آبنائے ہرمز: ایران کا عمانی حدود سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملہ نہ کرنے کا عندیہ

امریکا سے مذاکرات میں پیشکش، جنگ بندی معاہدے سے مشروط، عالمی تیل ترسیل شدید متاثر
شائع 16 اپريل 2026 09:19am

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک اہم پیشکش کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے عمانی حصے سے جہازوں کو بغیر کسی حملے کے خطرے کے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ پیشکش ممکنہ جنگ بندی معاہدے سے مشروط ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت جہازوں کو آبنائے ہرمز کے عمانی پانیوں کے راستے محفوظ گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس پیشکش کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ طور پر تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پیشکش اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے مطالبات تسلیم کرے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے، تاکہ دوبارہ تصادم سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی۔ یہ آبنائے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

جنگ کے آغاز کے بعد سے سینکڑوں آئل ٹینکرز اور دیگر جہاز خلیج میں پھنس گئے ہیں جبکہ تقریباً 20 ہزار ملاح بھی متاثر ہوئے ہیں۔ 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، تاہم اس اہم گزرگاہ کا کنٹرول اب بھی مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران عمانی پانیوں کے راستے جہازوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے گزرنے دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ایران اس علاقے میں بچھائی گئی ممکنہ بارودی سرنگیں ہٹانے پر بھی تیار ہوگا یا نہیں، اور آیا اسرائیل سے منسلک جہازوں کو بھی یہی سہولت حاصل ہوگی۔

دوسری جانب مغربی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس تجویز پر کچھ عرصے سے کام جاری تھا، تاہم ابھی تک واشنگٹن کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان تقریباً 34 کلومیٹر چوڑی ایک اہم گزرگاہ ہے جو خلیج کو بحر ہند سے ملاتی ہے اور مشرق وسطیٰ سے توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی یہ تجویز حالیہ سخت مؤقف سے کسی حد تک پسپائی کی علامت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے قبل ایران کی جانب سے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے اور آبنائے پر خودمختاری قائم کرنے جیسے اقدامات زیر غور تھے، جنہیں عالمی بحری قوانین کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے رکن ممالک نے بھی ایران کی جانب سے ممکنہ ٹول ٹیکس کے اقدام کی مخالفت کی ہے اور اسے ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے حال ہی میں ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے تیل بردار جہازوں پر ناکہ بندی عائد کی تھی، جس کے بعد سے خطے میں بحری سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

Read Comments