پنجاب میں ایڈز کے پھیلاؤ پر بی بی سی کی رپورٹ غلط ہوئی تو جواب دینا ہوگا: وزیرِ صحت

50 ہزار افراد کی سکریننگ، 334 کیسز سامنے آئے، رپورٹ کی فیکٹ فائنڈنگ کا اعلان
شائع 16 اپريل 2026 12:35pm

پنجاب کے وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر نے بی بی سی اردو کی ایڈز سے متعلق رپورٹ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے بروقت اقدامات کیے اور معاملے کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا، جبکہ رپورٹ کی مکمل تحقیقات بھی کرائی جائیں گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بی بی سی اردو کی جانب سے ایڈز سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے، تاہم حکومت نے اس معاملے پر پہلے ہی اقدامات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی بیماری کے وجود سے انکار نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2025 میں اس معاملے کی نشاندہی سب سے پہلے سرکاری اداروں نے کی، جس کے بعد جوائنٹ کمیشن تونسہ گیا اور تقریباً 50 ہزار افراد کی سکریننگ کی گئی، جس میں 334 افراد میں بیماری کی تشخیص ہوئی، جن میں زیادہ تر کیسز مختلف یونین کونسلز میں سامنے آئے۔

خواجہ عمران نذیر کے مطابق متاثرہ افراد میں 12 سال سے کم عمر بچے بھی شامل تھے، جس کے بعد وہاں مستقل سکریننگ سینٹر قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے اندر مؤثر اقدامات کے بعد کیسز کی تعداد کم ہو کر صرف دو رہ گئی۔

وزیر صحت نے کہا کہ اس معاملے کو دوبارہ اٹھانا سمجھ سے بالاتر ہے، جبکہ بی بی سی رپورٹ میں بعض نکات حقیقت کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں دکھائے گئے بعض مناظر اور سرنجز ایسے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں میں استعمال ہی نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ کی فیکٹ فائنڈنگ کرے گی اور اگر کوئی ذمہ دار پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، تاہم اگر الزامات درست ثابت نہ ہوئے تو بی بی سی کو جواب دینا ہوگا۔

خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے 240 عطائیوں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ 11 مقدمات بھی درج کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی کو تحریری جواب بھی دیا گیا تھا لیکن اسے رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی، صوبے میں ایڈز کنٹرول پروگرام فعال ہے اور تمام طبی مراکز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور حکومت صحت کے شعبے میں شفافیت کے ساتھ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

Read Comments