' یامی گوتم نے اپنے کردار کے لیے قرآن کا مطالعہ کیا'، فلم ’حق‘ کے ہدایتکار کا انکشاف
بولی ووڈ ہدایتکار سپرن ایس ورما نے اپنی فلم ’حق‘ کی تیاری سے متعلق دلچسپ انکشافات کیے ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلم کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے کتنی محنت کی گئی۔
یہ فلم نومبر 2025 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں یامی گوتم اور عمران ہاشمی مرکزی کرداروں میں نظر آئے۔
فلم کی کہانی شازیہ بانو (یامی گوتم) کے گرد گھومتی ہے، جو 1970 کی دہائی کے بھارت میں ایک وکیل کی بیوی ہوتی ہے۔
جب اس کا شوہر دوسری شادی کر لیتا ہے اور اسے نان نفقہ دینے سے انکار کرتا ہے تو وہ انصاف کے لیے عدالت کا رخ کرتی ہے۔
ہدایتکار کے مطابق، فلم کی تیاری کے دوران ٹیم نے تقریباً ڈیڑھ سال تک اسلامی قوانین کو سمجھنے پر کام کیا۔
بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں سوپرن ورما نے بتایا کہ یامی گوتم نے اپنے کردار ’شازیہ بانو‘ کی زندگی اور اس کی قانونی جنگ کو درست طریقے سے پردہ سیمیں پر پیش کرنے کے لیے بھرپور ریسرچ کی۔
ہدایت کار کے مطابق، ’ہم نے تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ صرف اسلامی قوانین (شریعت) کو سمجھنے میں صرف کیا، جبکہ یامی نے اپنے کردار کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قرآن پاک کی تعلیمات بھی حاصل کیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے تحقیق کے عمل کو نہایت سنجیدگی اور گہرائی سے مکمل کیا۔
ہدایتکار کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھر مار ہے، یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ اسی لیے انہوں نے ’حق‘ کو ایک مستند آواز بنانے کے لیے ریسرچ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ فلم کا ہر پہلو قانونی اور مذہبی لحاظ سے درست ہو۔
یہ فلم جنگلی پکچرز، انسومنیا فلمز اور باویجا اسٹوڈیوز کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے، جس میں صنفی انصاف، حقوق اور ذاتی وقار جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
نومبر 2025 میں سنیما گھروں میں نمائش کے بعد، فلم کو مزید مقبولیت اس وقت ملی جب اسے 2 جنوری 2026 کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر ریلیز کیا گیا، جہاں اسے شائقین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔