ایران امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے لیے نئی پیشکش تیار کر رہا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک نئی پیشکش متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں اس ممکنہ پیشکش کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ایران ایک پیشکش تیار کر رہا ہے اور ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ مسلسل اس کوشش میں ہے کہ ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا پکا وعدہ لیا جائے اور اس کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی حاصل کیا جائے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی تھی جب تک تہران ایک متفقہ امن تجویز پیش نہیں کرتا۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر سخت گیر اور معتدل پسند گروہوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے انہیں ایک واضح جواب دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ تہران میں کس سے مذاکرات کر رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان لوگوں سے معاملات طے کر رہے ہیں جو اس وقت بااختیار ہیں۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر ہفتے کے روز اسلام آباد روانہ ہوں گے تاکہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی بات کرنا چاہتے ہیں اور وہ خود مل کر بات کرنے کے خواہش مند ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، اسی لیے اسٹیو اور جیرڈ کل پاکستان جا رہے ہیں تاکہ ایرانیوں کا موقف سن سکیں۔
امریکی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ اس ملاقات سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے خود امریکا سے رابطہ کر کے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی درخواست کی تھی اور گزشتہ چند دنوں میں ایرانی رویے میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی ہے۔
دوسری طرف ایرانی سرکاری میڈیا نے ان خبروں کے برعکس رپورٹ دی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسلام آباد میں امریکی وفد سے ملاقات کا کوئی باقاعدہ شیڈول طے نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق، عباس عراقچی اپنے کئی ممالک کے دورے کے سلسلے میں پاکستان پہنچے ہیں جس کے بعد وہ مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے۔
امریکی ترجمان کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال امریکا میں ہی قیام کریں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ بھی پاکستان روانہ ہو سکتے ہیں۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان مذاکرات میں کوئی بڑا بریک تھرو ہو سکے گا یا نہیں، لیکن امریکا کا بنیادی ہدف ایران کو اس کے جوہری عزائم سے دستبردار کروانا ہے۔