دنیا کے 10 امیر ترین ممالک کی فہرست سے فرانس اور جرمنی باہر

نئے پراسپیریٹی انڈیکس کے مطابق امیر ترین ممالک کی نئی فہرست: فرانس اور جرمنی ٹاپ ٹین سے باہر.
شائع 25 اپريل 2026 02:25pm

دنیا کے امیر ترین ممالک کی درجہ بندی ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہی ہے، لیکن 2026 میں جاری ہونے والے ایک نئے پراسپیریٹی انڈیکس نے اس تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ نتائج کے مطابق یورپی ممالک مجموعی طور پر فہرست میں سب سے آگے ہیں، تاہم دنیا کی بڑی معیشتیں جیسے جرمنی اور فرانس ٹاپ ٹین میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

اس نئی درجہ بندی میں صرف معیشت کے حجم یا فی کس آمدن کو نہیں دیکھا گیا بلکہ یہ بھی جانچا گیا ہے کہ دولت عام شہری کی زندگی کو کس حد تک بہتر بناتی ہے۔

مالیاتی تجزیاتی ادارے ”ہیلو سیف کی رپورٹ“ کے مطابق کسی ملک کی امیری کا مطلب صرف زیادہ پیداوار یا بڑی معیشت نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس دولت کا فائدہ عام لوگوں تک کس حد تک پہنچتا ہے۔ اسی بنیاد پر ناروے کو 2026 میں دنیا کا سب سے امیر ملک قرار دیا گیا ہے۔

اس انڈیکس میں عالمی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے 50 سے زائد ممالک کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں آمدن، معاشی عدم مساوات، معیار زندگی اور سماجی ترقی جیسے عوامل کو شامل کیا گیا ہے۔

نتائج کے مطابق یورپ اس فہرست پر غالب ہے اور ٹاپ پانچ میں شامل تمام ممالک اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ناروے پہلے نمبر پر ہے، جس کی وجہ اس کی متوازن معاشی اور سماجی پالیسیاں ہیں۔

آئرلینڈ دوسرے نمبر پر ہے جہاں بظاہر جی ڈی پی بہت زیادہ ہے، تاہم اس کا بڑا حصہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی وجہ سے ہے اور عام شہری کی آمدن اس سے کم ہوتی ہے۔ لکسمبرگ تیسرے نمبر پر ہے جو پہلے نمبر سے نیچے آ گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑی معیشتیں جیسے امریکا، جرمنی اور فرانس اس فہرست میں ٹاپ ٹین میں جگہ نہیں بنا سکیں۔ امریکہ 17ویں نمبر پر ہے جس کی وجہ وہاں آمدن میں فرق اور غربت کی شرح کو قرار دیا گیا ہے۔ جرمنی 12ویں جبکہ فرانس 20ویں نمبر پر ہے۔

خلیجی ممالک میں قطر گیارہویں اور متحدہ عرب امارات تیرہویں نمبر پر موجود ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صرف جی ڈی پی فی کس کو معیار بنانا گمراہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ دولت سب میں برابر تقسیم ہوتی ہے، جو حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر آئرلینڈ میں فی کس جی ڈی پی بہت زیادہ ہے لیکن حقیقی آمدن اس سے خاصی کم ہے۔

دیگر ممالک میں سوئٹزرلینڈ، آئس لینڈ، ڈنمارک اور نیدرلینڈز بھی اعلیٰ پوزیشنز پر ہیں۔ ایشیا میں سنگاپور سب سے آگے ہے لیکن وہاں آمدن میں عدم مساوات ایک مسئلہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں قطر اور متحدہ عرب امارات نمایاں ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہوریہ چیک جیسا ملک بھی فرانس سے آگے نکل گیا ہے کیونکہ وہاں دولت کی تقسیم زیادہ منصفانہ ہے اور غریب و امیر کے درمیان فرق بہت کم ہے۔ افریقہ میں سیشلز اور لاطینی امریکہ میں یوراگوئے اپنے اپنے خطے کے سب سے خوشحال ممالک قرار پائے ہیں۔

اس رپورٹ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مستقبل میں وہی ملک حقیقتاً امیر کہلائے گا جو اپنی دولت کو اپنے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر طریقے سے استعمال کرے گا۔

Read Comments