صدر ٹرمپ پر حملے کے وقت اسٹیج پر پرچی دکھانے والا جادوگر کون تھا؟

اس سال وائٹ ہاؤس کی تقریب میں اس جادوگر کا انتخاب ایک روایت شکنی تھا۔
شائع 26 اپريل 2026 10:41am

واشنگٹن میں منعقدہ وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران جب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی تو اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیج پر ایک مشہور جادوگر اور دماغ پڑھنے کا دعویٰ کرنے والے فنکار اوز پرل مین کے ساتھ مصروف تھے۔

اس لرزہ خیز واقعے کے وقت اوز پرل مین اسٹیج پر ایک ایسا جادو دکھا رہے تھے جس میں وہ پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے ہونے والے بچے کے نام کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔

اوز پرل مین ایک 43 سالہ امریکی فنکار ہیں جو ذہن پڑھنے اور حیرت انگیز دماغی کرتب دکھانے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

انہوں نے 2015 میں امریکا کے مشہور ٹیلنٹ شو ”امریکاز گاٹ ٹیلنٹ“ میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے شہرت پائی اور اس کے بعد سے وہ بڑے بڑے اداروں، کھلاڑیوں اور ٹی وی چینلز کے لیے پروگرام کرتے آ رہے ہیں۔

وہ اب تک ایمی ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں اور کئی مشہور ٹاک شوز کا حصہ رہ چکے ہیں۔

اس سال کی تقریب میں ان کا انتخاب ایک روایت شکنی تھا، کیونکہ عام طور پر اس عشائیے میں کسی کامیڈین کو بلایا جاتا ہے جو صدر اور صحافیوں کا مذاق اڑاتا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ سے تناؤ کے باعث اس بار کسی مزاحیہ اداکار کے بجائے جادوگر کو مدعو کیا گیا۔

تقریب سے پہلے ایک کالم میں اوز پرل مین نے لکھا تھا کہ ان کے لیے اس بڑے دن کی تیاری کرنا آسان نہیں تھا۔

انہوں نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ گزشتہ 30 سالوں سے لوگوں کے ذہن پڑھنے کی مشق دراصل اسی لمحے کے لیے تھی جب وہ دنیا کی سب سے طاقتور شخصیت یعنی صدر ٹرمپ کے سامنے اپنا فن پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس دنیا میں کسی ایک شخص کا ذہن پڑھنا چاہیں گے تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، کیونکہ آج تک کوئی یہ نہیں سمجھ سکا کہ صدر اگلے لمحے کیا کہیں گے یا کیا سوچیں گے۔

اوز پرل مین نے ٹرمپ کو ایک ایسی پہیلی قرار دیا تھا جسے حل کرنا ان کا خواب تھا۔

اوز پرل مین نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا یا سیاسی جملے بازی کرنا نہیں ہے بلکہ وہ سب کو حیرت اور مسرت کے احساس میں متحد کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کسی کو شرمندہ کرنے یا لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں رکھا گیا، بلکہ میرا کام سب کو تفریح فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جب جنوری میں انہیں اس پروگرام کے لیے بک کیا گیا تو وہ خود حیران رہ گئے تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہاں ہمیشہ کامیڈینز کو ہی بلایا جاتا ہے۔

بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس سال جان بوجھ کر کسی کامیڈین کو نہیں بلایا گیا تاکہ صدر ٹرمپ اس تقریب میں شرکت کریں، کیونکہ ماضی میں صدر کو کامیڈینز کی جانب سے کی جانے والی تنقید پسند نہیں آئی تھی۔

اوز پرل مین کا مقصد پورا ہوا اور صدر ٹرمپ تقریب میں شریک ہوئے، لیکن بدقسمتی سے جادو کے ان لمحات کو گولیوں کی آواز نے ادھورا چھوڑ دیا۔

Read Comments