واشنگٹن میں ٹرمپ پر حملے کی کوشش کے دوران کیا ہوا؟ فائرنگ سے گرفتاری تک کی مکمل کہانی
واشنگٹن کے مشہور ہلٹن ہوٹل میں پاکستانی وقت کے مطابق علی الصبح اس وقت افراتفری پھیل گئی جب وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران ایک مسلح شخص نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کو ہنگامی طور پر وہاں سے نکالنا پڑا۔
اس لرزہ خیز واقعے کا آغاز امریکی وقت کے مطابق رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہوا جب ہال میں گولیوں کی آوازیں گونجیں اور وہاں موجود مہمان جان بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپ گئے۔
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آواز سنتے ہی خفیہ سروس کے ایجنٹ تیزی سے صدر ٹرمپ کی طرف لپکے اور انہیں اور ان کے وزراء کو فوری طور پر بال روم سے باہر لے گئے۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر اور پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک اکیلے مسلح شخص نے ہوٹل کی لابی میں واقع خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھاوا بولا تھا۔
جیفری کیرول کے مطابق حملہ آور کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور کئی چاقو موجود تھے۔ جیسے ہی اس نے چیک پوائنٹ عبور کرنے کی کوشش کی، وہاں موجود خفیہ سروس کے اہلکاروں نے اسے روک لیا۔
اس جھڑپ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم پولیس چیف نے واضح کیا کہ ملزم کو گولی نہیں لگی بلکہ اہلکاروں نے اسے زمین پر پچھاڑ کر ہتھکڑیاں لگائیں۔
میئر نے بتایا کہ اس واقعے میں خفیہ سروس کا ایک ایجنٹ زخمی ہوا جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ ملزم کو بھی طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔
رات نو بجے کے قریب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پہلے ردعمل میں کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے بہت بہادری اور تیزی سے کام کیا اور شوٹر کو پکڑ لیا گیا ہے۔
صدر نے پہلے یہ تجویز دی کہ تقریب جاری رکھی جائے، لیکن تقریباً بیس منٹ بعد انہوں نے دوبارہ پیغام جاری کیا کہ سیکیورٹی اداروں کی درخواست پر وہ ہوٹل کی عمارت چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اب یہ تقریب آئندہ تیس دنوں کے اندر دوبارہ منعقد کی جائے گی۔
تقریباً ساڑھے دس بجے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر اور قائم مقام اٹارنی جنرل کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جہاں انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ ایک ہی شخص کی کارروائی تھی۔
رات گئے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی وکیل جینین پیرو نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم پر پرتشدد جرم کے دوران اسلحہ استعمال کرنے اور خطرناک ہتھیار سے وفاقی افسر پر حملہ کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے امریکی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی سے ایک بڑے جانی نقصان کو روک لیا گیا۔