ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے یو اے ای کو آئرن ڈوم فراہم کیا: امریکی اخبار کا دعویٰ

یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے آئرن ڈوم سسٹم کسی دوسرے ملک کو فراہم کیا: سینئر اسرائیلی عہدیدار
شائع 26 اپريل 2026 06:25pm

ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو اپنا جدید فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا اور اس کے ساتھ اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار بھی تعینات کیے، یہ انکشاف دو اسرائیلی اور ایک امریکی عہدیدار نے کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان عسکری، سیکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون نئی بلندیوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ جنگ کے دوران آئرن ڈوم کی اس غیر معمولی تعیناتی کو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔

اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران نے یو اے ای پر تقریباً 550 بیلسٹک اور کروز میزائل اور دو ہزار 200 سے زائد ڈرون داغے۔ ان میں سے زیادہ تر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم کچھ میزائل اور ڈرون ملک کے فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔

پسِ پردہ رپورٹ کے مطابق ان شدید حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنے اتحادیوں سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق اماراتی صدر محمد بن زاید سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی دفاعی افواج کو ہدایت دی کہ وہ ایک آئرن ڈوم بیٹری، اس کے انٹرسیپٹرز اور درجنوں آپریٹرز یو اے ای بھیجیں۔

ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے آئرن ڈوم سسٹم کسی دوسرے ملک کو فراہم کیا، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے علاوہ متحدہ عرب امارات پہلا ملک بنا جہاں اس نظام کو استعمال کیا گیا۔

ایک اور اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ اس سسٹم نے ایران کے درجنوں میزائلوں کو تباہ کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی ایران میں نصب قلیل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو بھی متعدد فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تاکہ وہ یو اے ای اور دیگر خلیجی ممالک پر حملہ نہ کر سکیں۔

دوسری جانب خلیجی خطے میں اماراتی سرزمین پر اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی سیاسی طور پر حساس معاملہ بھی بن سکتی ہے، تاہم اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے عوامی سوچ میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے اور جو بھی ملک کو ایرانی حملوں سے بچانے میں مدد دے گا، اسے مثبت نظر سے دیکھا جائے گا۔

ادھر اسرائیل کے اندر بھی اس فیصلے پر ردعمل سامنے آ سکتا ہے کیونکہ نیتن یاہو نے ایسے وقت میں دفاعی نظام فراہم کیا جب خود اسرائیل بھی شدید حملوں کی زد میں تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اگرچہ اس دوران غزہ سمیت مختلف معاملات پر اختلافات بھی رہے، تاہم دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت دوطرفہ شراکت داری اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

متحدہ عرب امارات کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سابق عہدیدار طارق العتیبہ نے عرب گلف اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اسرائیل ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے یو اے ای کو حقیقی مدد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص امریکا اور اسرائیل نے وسیع عسکری امداد، انٹیلیجنس شیئرنگ اور سفارتی حمایت فراہم کر کے حقیقی اتحادی ہونے کا ثبوت دیا۔“

ایک سینئر اماراتی عہدیدار نے اسرائیلی مدد کے حوالے سے کہا کہ ہم اسے کبھی نہیں بھولیں گے، جبکہ ایک اور اماراتی اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکا، فرانس، برطانیہ، اٹلی اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کی مدد بھی اسی طرح قابلِ قدر ہے۔

ان کے بقول یہ ایک آنکھیں کھول دینے والا لمحہ تھا، جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے حقیقی دوست کون ہیں۔

Read Comments