امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے اپنی آواز اور شخصیت ٹریڈ مارک کرنے کی درخواست دائر کر دی

اب اے آئی ان کی آواز کو چوری نہیں کرسکے گا۔
شائع 28 اپريل 2026 03:15pm

عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اپنی آواز اور شناخت کے تحفظ کے لیے اہم قانونی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنی آواز کے دو آڈیو کلپس اور ایک اسٹیج تصویر کو بطور ٹریڈ مارک رجسٹر کروانے کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس اقدام کا مقصد اے آئی کے ذریعے بننے والی جعلی ویڈیوز اور آڈیوز (ڈیپ فیکس) کا راستہ روکنا ہے، جن میں کسی مشہور شخصیت کی آواز اور شکل کو بغیر اجازت استعمال کیا جاتا ہے۔

۔

آج کل اے آئی ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ کسی بھی انسان کی ہو بہو آواز نکال سکتی ہے۔ ٹیلر سوئفٹ کی آواز اور تصویر کو کئی بار ان کی اجازت کے بغیر جھوٹے اشتہارات اور غلط کاموں کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

عام طور پر قانون صرف گانوں کی چوری کو روکتا ہے، لیکن یہ نیا طریقہ ٹیلر سوئفٹ کو یہ طاقت دے گا کہ اگر کوئی مشین ان کی آواز کی نقل بھی کرے گی، تو وہ اس پر کیس کر سکیں گی۔

درخواست میں شامل آڈیو کلپس میں ٹیلر سوئفٹ اپنے نئے البم ’دی لائف آف اے شوگرل‘ کی تشہیر کرتی سنائی دیتی ہیں، جبکہ تصویر میں وہ اسٹیج پر چمکدار لباس اور گلابی گٹار کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔

۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی کاپی رائٹ قوانین صرف اصل ریکارڈنگ کے تحفظ تک محدود ہوتے ہیں، جبکہ اے آئی ایسی نئی آوازیں تخلیق کر سکتا ہے، جو کسی فنکار کی آواز سے مشابہ ہوں لیکن اصل مواد کی نقل نہ ہوں۔ ایسے میں ٹریڈ مارک کا یہ اقدام ایک اضافی قانونی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قدم مستقبل میں دیگر فنکاروں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے، کیونکہ اے آئی کے دور میں ذاتی شناخت اور تخلیقی حقوق کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔


جیسے بڑی کمپنیاں اپنے ’لوگو‘ کو محفوظ رکھتی ہیں تاکہ کوئی دوسرا اسے استعمال نہ کر سکے، بالکل اسی طرح اب ٹیلر سوئفٹ اپنی آواز اور پہچان کو محفوظ کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ٹیکنالوجی ان کی اجازت کے بغیر ان کا روپ نہ دھار سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں دوسرے فنکار بھی اپنی پہچان بچانے کے لیے یہی طریقہ اپنائیں گے، کیونکہ اے آئی کے دور میں ذاتی شناخت اور تخلیقی حقوق کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

Read Comments